مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 105

مضامین بشیر جلد سوم 105 یا جوج اور ماجوج لیا ہے اور اسلام نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کے نظاموں کا یا جوج اور ماجوج کے ناموں سے ذکر کیا۔پیشگوئی فرمائی ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں نظام ایک بھاری سیلاب کی طرح ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔اور مادی ترقی کے سارے سامان بظاہر ان کے ہاتھ میں چلے جائیں گے ( قرآن مجید سورہ انبیاء آیت 92 تا 98) یا جوج روس کا نام ہے جو آج کل اشترا کی نظام کا لیڈر اور مرکزی نقطہ ہے اور ماجوج برطانیہ کا نام ہے جو سرمایہ داری کے نظام کا علمبردار ہے۔اور برطانیہ کے مفہوم میں شمالی امریکہ بھی شامل ہے جو زیادہ تر برطانیہ ہی کی نسل اور اسی نظام کا حامل ہے۔گو آجکل وہ اس میدان میں برطانیہ سے بھی آگے آگے ہے یہ دونوں نظام متضاد پالیسیوں اور سکیموں کے ماتحت ایک دوسرے کے خلاف خطرناک طور پر صف آراء ہیں۔اور گومخفی جنگ جسے آجکل کی اصطلاح میں اعصابی جنگ یا کولڈ وار (Cold War) کہتے ہیں اب بھی جاری ہے۔لیکن ایسے حالات سرعت کے ساتھ پیدا ہور ہے ہیں جن کے پیش نظر اس بات کا بھاری خطرہ ہے کہ یہ متقابل آتش فشاں پہاڑ کسی وقت بھی پھٹ کر نہ صرف ایک دوسرے پر چھا جانے بلکہ دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لینے کے لئے ایک عالمگیر جنگ کی آگ بھڑ کا دیں گے۔(مذہبی پہلو کے لحاظ سے یا جوج ماجوج کے فتنہ کا احادیث میں دجال کے نام سے ذکر کیا گیا ہے ) عالمگیر خطره بظاہر حالات یہ دونوں ( یعنی اشتراکیت اور سرمایہ داری ) اقتصادی اور تمدنی نوعیت کے نظام ہیں۔مگر حقیقتا ان نظاموں کے ساتھ نہ صرف سیاسیات بلکہ اخلاقیات اور روحانیات کی تاریں بھی اس طرح الجھی ہوئی ہیں کہ ان نظاموں کی ترقی اور تنزل کا اثر ان سارے میدانوں پر براہ راست پڑتا ہے۔اور دنیا کا کوئی طبقہ خواہ وہ سیاسی ہو یا ند ہی اپنے آپ کو لاتعلق سمجھ کر علیحدہ نہیں رہ سکتا۔پس قبل اس کے کہ اس عالمگیر آگ کے شعلے کسی قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔اس کا فرض ہے کہ حالات کا جائزہ لے کر کسی صحیح نتیجہ اور فیصلہ کن لائحہ عمل پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ورنہ جو قوم اپنے آپ کو محفوظ اور لاتعلق سمجھ کر خاموش بیٹھی رہے گی وہ یقیناً اس کبوتر کی مثال بنے گی جو بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں اس خطرہ سے محفوظ ہو گیا ہوں۔