مضامین بشیر (جلد 3) — Page 102
مضامین بشیر جلد سوم 102 قادیان میں ایک نومسلم خاکروبہ کا انتقال هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ “ کا دلچسپ پر تو قادیان سے اطلاع ملی ہے کہ مسمات محمد بی بی ( سابق نام ٹھا کری ) وفات پاگئی ہے۔مسمات محمد بی بی قادیان میں خاکر وہ تھی۔مگر اسے اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ با وجود اس کے کہ آجکل وہ غیر مسلم آبادی میں گھری ہوئی رہتی تھی اور گویا دین العجائز رکھتی تھی۔وہ ملکی تقسیم کے بعد بھی اسلام پر قائم رہی اور مرنے سے پہلے بار بار میر صاحب مقامی مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل سے تاکید عرض کرتی رہی کہ میں مسلمان ہوں۔میرا جنازہ احمدی بھائی پڑھیں اور آپ لوگ خود مجھے دفن کریں۔چنانچہ خدا نے اس کی یہ خواہش پوری کی اور جماعت احمدیہ قادیان نے اس کا جنازہ پڑھا اور اپنے انتظام میں قبرستان غیر موصیان میں اسے دفن کیا۔مجھے ایسے موقعوں پر ہمیشہ یہ حدیث یاد آتی ہے کہ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ یعنی انبیاء اور اولیاء کی وہ مبارک جماعت ہے کہ ان کا جسمانی قرب رکھنے والا انسان بھی برکت سے محروم نہیں رہتا۔اب یہی قادیان اور اس کے گرد و نواح کی پرانی آبادی کے لوگ تھے جن میں سے اکثر کو محض اس لئے ہدایت نصیب ہوئی کہ وہ تخت گاہ مسیح موعود کے قریب رہنے والے تھے۔اگر یہی لوگ مثلاً یو پی یا سی پی یا مدراس وغیرہ میں ہوتے تو انہوں نے اس زمانہ میں کہاں ایمان لانا تھا؟ بلکہ شاید انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی نہ پہنچتا۔کیونکہ یہ لوگ عموماً دیہاتی اور نا خواندہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسمانی قرب کی وجہ سے وہ ایمان کی نعمت سے متمتع ہو گئے۔ورنہ شاید عام حالات میں کئی پشت بعد ان کی نسلیں ایمان کی نعمت حاصل کرتیں۔سچ ہے کہ لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ۔اس با برکت گروہ کا جسمانی قرب بھی بے شمار نعمتوں کا باعث بن جاتا ہے۔بشرطیکہ کوئی انسان خود اپنے کمرہ کی کھڑکیاں بند کر کے اپنے آپ کو خدائی نور سے محروم نہ کر لے۔جیسا کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل یا ابولہب وغیرہ نے مکہ میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو اسلام کے نور سے محروم کر لیا۔جن کی محرومی سے متعلق مولانا روم نے کیا خوب کہا ہے کہ۔حسن ز بصره بلال از جبش صهیب از روم ز خاک مکہ ابو جہل ایس چه بواجھمی ایست