مضامین بشیر (جلد 3) — Page 7
مضامین بشیر جلد سوم 7 نے یہ بات ازل سے لکھ رکھی ہے کہ میں اور میرے رسول بہر حال غالب رہیں گے۔دنیا اس حقیقت کو مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک ابدی صداقت ہے کہ ہر کامیابی خدا کی طرف سے ہے اور ہر نا کامی انسان کی اپنی غلطیوں کا ثمرہ ہے۔کاش لوگ اس حقیقت کو سمجھیں۔دوسری طرف تربیت کے متعلق قرآن شریف بالکل ابتداء میں ہی اسلامی تعلیم کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَO وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ، وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمُ ، وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره:4-6) یعنی خدا کی نظر میں بچے متقی وہ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خدا کے رستے میں خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اُتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے اُتارا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر بامراد ہوں گے۔اس آیت میں اسلام کی تعلیم کا ایسا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔جو گویا ایک مسلمان کی تربیت کا سنگ بنیاد ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانیات کے میدان میں تم چند اصولوں کی صداقتوں پر جو تمہارے لئے غیب کا رنگ رکھتی ہیں ، ایمان لانے کے بغیر مومن نہیں سمجھے جاسکتے۔خدا اور اس کے فرشتے اور اس کی کتابیں اور اس کے رسول اور یوم آخر اور قدر خیر وشر۔اور عمل کے میدان میں دو باتیں تمہاری اسلامی تربیت کی جان ہیں یعنی نماز اور خدا کے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنا۔ایمان کے میدان میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک آقا پر ایمان لاتے ہوئے اس بات پر یقین رکھے کہ اس نے اس دنیا کو یونہی کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیا۔بلکہ اس روحانی اور مادی کارخانے کو چلانے کے لئے اس نے ایک وسیع نظام قائم فرمایا ہے۔اس نے لوگوں کے دلوں میں نیک تحریکیں پیدا کرنے اور بدیوں کے خلاف چوکس رکھنے کے لئے فرشتوں کو پیدا کیا ہے۔اور پھر وقتا فوقتا الہامی کتابیں نازل کر کے لوگوں کی ہدایت کا سامان مہیا کیا ہے۔اور ان کتابوں کے ساتھ رسول بھیجے تا کہ وہ لوگوں کے سامنے خدائی ہدایت کا عملی نمونہ پیش کریں اور پھر اس نے موعودہ دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی رکھی ہے، تا لوگ اس دوسری زندگی میں اپنے نیک و بد اعمال کا بدلہ پا سکیں اور بالآخر دنیا کا قانون قضاء وقد ریعنی لاء آف نیچر (LAW OF NATURE) بھی خدا کا ہی