مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 6

مضامین بشیر جلد سوم 6 پہنچاتے ہیں ہمیشہ متوازی چلنی چاہئیں ورنہ ایک نہر کے خشک ہونے میں دوسری نہر کی موت کا پیغام ہے اور دونوں کی زندگی خیال موہوم۔پس ہر مصلح کا ( خواہ وہ انسان ہو یا ادارہ یا اخبار ہو یا رسالہ) یہ اولین فرض ہے کہ وہ ان ہر دو کاموں کی طرف یکساں توجہ دے۔وہ معلم بھی ہو اور مزگی بھی۔مبلغ بھی ہو اور مربی بھی۔قرآن شریف ان دونوں کاموں کے متعلق نہایت لطیف ہدایتیں جاری فرماتا ہے۔لیکن اس جگہ اختصار کے خیال سے میں صرف دو آیتوں کے ذکر پر اکتفا کروں گا۔تبلیغ کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے۔اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) یعنی اپنے رب کے راستہ کی طرف لوگوں کو عقلی دلیلوں اور جذباتی وعظ ونصیحت کی باتوں کے ذریعہ دعوت دو۔اور اگر ان کے ساتھ مجادلہ کی صورت پیدا ہو جائے تو صرف پختہ اور بہتر دلیلوں کے ساتھ مقابلہ کرو۔یہ لطیف قرآنی آیت اسلامی طریق تبلیغ کی گویا جان ہے کیونکہ اس میں تین ایسی اصولی ہدایتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جو تبلیغ کی کامیابی کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کے بغیر کوئی تبلیغ خواہ وہ کتنی ہی بھاری صداقتوں اور کیسی ہی حکیمانہ باتوں پر مشتمل ہو کا میاب نہیں ہوسکتی۔یہ تین ہدایتیں یہ ہیں۔(1) صداقت کی تبلیغ میں عقلی دلیلوں کا استعمال تا کہ مخاطب یہ محسوس کرے کہ جو حقیقت میرے سامنے پیش کی جارہی ہے۔وہ پختہ یقینی اور نا قابل تردید عقلی دلیلوں کے ذریعہ ثابت ہے۔(2) جذباتی دلیلوں اور وعظ ونصیحت کی باتوں کا استعمال تا کہ مخاطب صداقت کی طرف طبعی کشش محسوس کرے اور قبول کرنے کے فوائد و انکار کرنے کے نقصانات بالکل عریاں ہو کر اس کی آنکھوں کے سامنے آجائیں اور وہ گویا اپنے روبرو جنت و دوزخ کا نظارہ دیکھنے لگے۔(3) اگر فریق مخالف کے ساتھ مجادلہ اور مناظرہ کی صورت پیدا ہو جائے تو یونہی دلیلوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے رطب و یابس کا ذخیرہ پیش نہ کیا جائے۔جس کی وجہ سے مخالف کو کمزور دلیل پر ہاتھ ڈالنے اور ایک جھوٹی خوشی حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔بلکہ صرف پختہ اور مضبوط اور واضح دلیلوں پر اکتفا کی جائے۔جو ہر جہت سے احسن ہوں۔یہ وہ تبلیغ کے تین سنہری گر ہیں جن کی اسلام ہدایت دیتا ہے اور یقینا ہر وہ شخص جو ان تین اصولی ہدایتوں کو مد نظر رکھ کر تبلیغ کے میدان میں آئے گا وہ خدا کے برگزیدہ رسولوں کے ورثہ تبلیغ کا وارث بنے گا اور اس قرآنی بشارت سے حصہ پائے گا کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (المجادله : 22) یعنی خدا