مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 8

مضامین بشیر جلد سوم 00 8 پیدا کردہ ہے۔اور اس طرح روحانی اور مادی دونوں جہانوں میں ساری حکومت خدا کی ہے۔اور اسی کی عبادت اور اسی کی رضا کے حصول میں اور پھر اسی کے جاری کردہ قانون قضاء و قدر کی روشنی میں انسان کو اپنی اپنی دینی اور دنیاوی زندگی گزارنی چاہئے۔دوسری طرف عمل کے میدان میں دو بنیادی چیزوں کو چنا گیا ہے۔اول نماز اور دوسرے خدا کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنا۔نماز خدا کا حق ہے جس کے ذریعہ خدا اور بندے کے درمیان روحانی تعلق قائم ہوتا ہے اور انفاق فی سبیل اللہ بندوں کا حق ہے جس کے ذریعہ نہ صرف غریب، امیر آپس میں بھائی بھائی بنتے ہیں بلکہ افراد کو جماعتی بوجھوں کا بھی ذمہ دار بنایا جاتا ہے اور افراد میں یہ احساس پیدا کیا جاتا ہے کہ جب تم ایک جماعت کے ساتھ وابستہ ہو۔تو تمہارے لئے فرض ہے کہ اپنا سارا رزق صرف اپنی ذات اور اپنے اہل وعیال کی ضرورت پر ہی خرچ نہ کرو بلکہ اس میں سے اپنے غریب بھائیوں اور اپنی جماعت کی اجتماعی ضرورتوں کا حصہ بھی نکالو اور اپنے اموال کو تبلیغ اور تعلیم کی ضروریات پر بھی خرچ کرو۔اور اس طرح نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کے حکم کے ذریعہ در اصل حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر دو میدانوں کے وسیع تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے۔اور حق یہ ہے کہ اسی میں دین کا سارا خلاصہ آجاتا ہے۔نماز سے غافل انسان محض ایک گوشت کا لوتھڑا ہے۔جس میں روحانیت کی کوئی جان نہیں اور نہ اپنے خالق و مالک خدا کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔اور اپنا سارا رزق اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دینے والا انسان جنگل کے ایک درندے سے بہتر نہیں۔جسے نہ اپنے غریب بھائیوں کا کوئی احساس ہے اور نہ اپنی قوم اور جماعت کا کوئی درد ہے۔پس اسلامی تربیت کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ایک طرف نماز کے ذریعہ خدا سے تعلق قائم کرو اور اس کی حیات بخش یاد کو اپنے دلوں میں تازہ رکھو۔اور دوسری طرف خدا کے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ حصہ اپنے غریب بھائیوں کی امداد اور جماعتی بوجھوں ( مثلاً چندہ تعلیم وتبلیغ وغیرہ) کے اٹھانے میں خرچ کرو۔جس شخص نے ان ذمہ داریوں کو اُٹھالیا۔بلکہ میں کہوں گا کہ جس نے ان دو نعمتوں کو پا لیا۔وہ خدا تعالیٰ کی اس ابدی ضمانت کا حق دار بن گیا کہ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره: (6) یہی وہ لوگ ہیں جو با مراد ہوں گے۔کاش لوگ حقیقت کو سمجھیں کہ نماز کے بغیر روح کی کوئی اصل میں لفظ درج نہیں غالباً حقیقت کا لفظ ہے۔ناقل ) نہیں۔یہ وہ فطری چشمہ ہے جس سے انسان کی روح بار بار جھک کر سیراب ہوتی ہے اور خدا کی یا دانسان کے سینے میں ایک نورانی شمع روشن کر دیتی ہے۔اور کاش لوگ اس حقیقت کو بھی سمجھیں کہ ان کے ہر رزق میں ان کی جماعت کا بھی حصہ ہے۔اور ان کے غریب بھائیوں کا بھی حق ہے۔جس کے ادا کرنے کے بغیر وہ انسان