مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 821 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 821

۸۲۱ مضامین بشیر ہیں۔آپ اسلامی شریعت کے لچکدار حصہ کو موجودہ زمانہ کی ضروریات کے مطابق حکیمانہ صورت میں پیش کرنے کے بھی مجاز ہیں مگر قرآن بہر حال وہی رہے گا حدیث وہی رہے گی اور قرآن وحدیث کی محکمات بھی وہی رہیں گی۔اب میرے اس صاف اور سید ھے اور اصولی نوٹ کو بدل کر اسے پرانے زمانہ کے آلات حرب کی بے جوڑ مثال دیتے ہوئے ٹالنے کی کوشش کرنا یقینا تحقیق حق کا صحیح انداز قرار نہیں دیا جا سکتا اور پھر کیا فاروقی صاحب اتنی سی بات بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ زمین کی ملکیت کے حق کا مسئلہ ایک ایسی بات ہے جس کے سارے ارکان اسی طرح قرون اولیٰ میں موجود تھے جس طرح کہ وہ آج موجود ہیں۔کیا قرون اولیٰ میں زمین موجود نہیں تھی اور صرف آج معرض وجود میں آئی ہے۔پھر کیا قرون اولیٰ میں زمین کے مالک کا وجود نہیں تھا اور وہ صرف اب آکر پیدا ہوا ہے؟ اور پھر کیا قرون اولیٰ میں کا شتکار موجود نہیں تھے اور وہ صرف اس زمانہ کی پیداوار ہیں؟ تو جب یہ ساری چیزیں ( جو مسئلہ زمین کے بنیادی ارکان ہیں ) قرونِ اولیٰ میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح کہ وہ اب موجود ہیں تو پھر اس کی بے جوڑ مثال میں پرانے زمانے کے تیر و تلوار کے مقابلہ پر موجودہ زمانہ کی توپ و بندوق کا ذکر کر کے میری دلیل کی تضحیک کرنا ہر گز کوئی با وقار جرح نہیں کہلا سکتی لیکن بہر حال فاروقی صاحب کا قلم ان کے ہاتھ میں ہے اور مجھے اسے روکنے کا اختیار نہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ بے شک موجودہ زمانہ میں زمین اور زمین کا مالک اور کاشتکار اسی طرح موجود ہیں جس طرح کہ وہ پہلے زمانہ میں موجود تھے مگر لوگوں کے دل بدل چکے ہیں تو محترم فاروقی صاحب جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے اب بھی وہی عرض کروں گا کہ اس صورت میں اس چیز کا علاج کیجئے جو بدلی ہے اور اس چیز کے پیچھے نہ لگئے جو نہیں بدلی ورنہ میں ڈرتا ہوں کہ موجودہ شکست خوردہ ذہنیت کے نتیجہ میں آپ اشتراکیت کے سیلاب سے غیر شعوری طور پر مرعوب ہو کر اسلام کی ہر اس بات کو چھوڑتے چلے جائیں گے جو آپ کے خیال میں موجودہ زمانہ کے مناسب حال نہیں اور اس مرض کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیں گے جو حقیقتہ اسلام کی روح کے مٹنے سے پیدا ہو رہی ہے۔میں نے یہ الفاظ بڑے درد کے ساتھ لکھے ہیں۔کاش وہ اسی درد کے ساتھ قبول کئے جائیں۔( مطبوعه الفضل ۶ را پریل ۱۹۵۰ء)