مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 820 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 820

مضامین بشیر ۸۲۰ کے لئے جو قربانی کا جذبہ پہلے پایا جاتا تھا وہ اب موجود نہیں۔تو جب حالات یہ ہیں تو صرف بعض باتوں میں ظاہری اصلاح سے کس بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے ؟ ہاں دلوں کی اصلاح اور عمل کی اصلاح بے شک بھاری تغیر پیدا کر سکتی ہے۔جیسا کہ دولت کے تفاوت کے باوجود اس نے قرون اولیٰ میں کیا لیکن اگر دل کا جذبہ اور جوارح کا عمل ٹھیک نہ ہو تو ظاہری اصلاح بھی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی اور نا گوارکش مکشوں اور رقابتوں کا سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: ان في جسد الانسان مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله واذا فسدت فسد الجسد كله الا وهى القلب۔۲۴ د یعنی انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ایسا ہے کہ جب وہ اچھی حالت میں ہو تو سارا جسم اچھا ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور کان کھول کر سن لو کہ وہ دل ہے۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کہیں کوئی نقص واقعی موجود ہے تو اس کی اصلاح نہ کی جائے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ اصلاح اسلامی تعلیم کی روشنی میں (نہ کہ اشتراکیت کی کورانہ تقلید میں ) ظاہر اور باطن دونوں کی ہونی چاہئے لیکن بدقسمتی سے اب حال یہ ہے کہ نام تو اسلام کا رکھا جاتا ہے مگر سارے تغیرات کا بین السطور ڈھانچہ اشتراکیت سے مستعار لیا جا رہا ہے۔حالانکہ وہ اسی طرح کی ایک لعنتی انتہا ہے جس طرح کہ دوسرے ملکوں کی سرمایہ داری دوسری طرف کی لعنتی انتہا ہے اور صحیح نظام صرف اسلام نے پیش کیا ہے جو ایک طرف دولت کے انفرادی حق کو تسلیم کرتا ہے اور دوسری طرف اخوت اور قربانی اور تعاون باہمی کے نظام کو بھی برسر کا رلاتا ہے۔فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے حالات بدل چکے ہیں اور پرانے زمانہ کے اصولوں کو موجودہ زمانہ پر چسپاں کرنا ٹھیک نہیں اور اس کی توضیح میں میری اس بات کو رد کرتے ہوئے کہ اسلام کی دائمی شریعت میں سارے زمانوں کی خرابیوں کا علاج موجود ہے ارشاد فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے تو تبصرہ نگار کے اصول کے مطابق آج بھی تیر اور تلوار سے جنگ ہونی چاہئیے۔کیونکہ عہد رسالت اور خلافت راشدہ کی جنگیں انہی آلات کے ذریعہ جیتی گئیں۔‘‘ افسوس فاروقی صاحب پھر میری بات کو کہاں سے کہاں لے گئے۔میں نے اصولی رنگ میں لکھا تھا کہ کیا قرآن وحدیث کے حوالے موجودہ زمانہ کے مسائل کا علاج پیش نہیں کرتے۔۔۔قرآن وحدیث کا دور دائمی ہے اور اس کا دامن دنیا کی آخری ساعت تک وسیع ہے۔آپ بے شک اس کی ہر معقول تشریح کا حق رکھتے