مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 822 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 822

مضامین بشیر ۸۲۲ اسلام اور زمین کی ملکیت میرے تبصرے پر فاروقی صاحب کا تبصرہ 66 " اسلام کے ابتدائی دور اور موجودہ زمانہ میں حالات کی تبدیلی کا ذکر کرنے کے بعد فاروقی صاحب نے چند سطروں میں آیت ” عفو اور مسئلہ اکتناز“ کا ذکر کیا ہے لیکن چونکہ ان کا یہ بیان بہت مختصر ہے۔میں ان کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں سکا۔غالباً ان کا منشاء یہ ہے کہ قرآن شریف نے آیت قبل العفو میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جو مال کسی شخص کی ضرورت سے زائد ہو وہ اسے لا زما دوسروں کو دے دے اور اسے کنر یعنی خزانہ بنا کر نہ رکھے۔اگر یہی مطلب ہے تو افسوس ہے کہ فاروقی صاحب نے اس آیت کے صحیح مقصد اور اس کے سیاق و سباق اور اس کے دائرہ عمل کو نہیں سمجھا۔یہ آیت اسلامی جنگوں کی شدت کے زمانہ میں ایسے صحابہ کے سوال پر نازل ہوئی تھی جو اس زمانہ میں اسلام کی بھاری جنگی ضروریات اور اس کے نتیجہ میں اسلام کے نازک حالات کو دیکھتے ہوئے بے دریغ خرچ کرنے کے خواہشمند تھے۔اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دی گئی کہ قل العفو یعنی اے رسول اپنے صحابہ سے کہہ دو کہ جو مال تمہاری واجبی ضروریات سے زیادہ ہو وہ خرچ کرو اور یا یہ کہ اپنے مال کا اچھا حصہ خرچ کرو۔( کیونکہ یہ ہی عربی زبان میں عفو کے دو معنی ہیں ) یعنی ایسا نہ ہو کہ ردی اور ناکارہ حصہ الگ کر کے خدا کو دے دو۔اب میں حیران ہوں کہ اس سے وہ استدلال کس طرح ہو سکتا ہے جو فاروقی صاحب کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اول تو یہ آیت بعض صحابہ کے سوال کے جواب میں نازل ہوئی تھی جو اپنی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے بے دریغ خرچ کرنے کے لئے بے چین تھے اور پھر اس میں ہر گز کوئی جبر کا پہلو نہیں ہے۔کہ بہر حال ہر مسلمان سے اس کا زائد مال چھین لیا جائے۔اگر ایسا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر عمل فرماتے ہوئے سارے مسلمانوں کا زائد مال ان سے لے لیتے۔مگر حدیث اور تاریخ میں اس بات کا قطعا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ آپ نے یا آپ کے بعد خلفائے راشدین نے کبھی کسی مسلمان سے اس کے ذاتی مال کا کوئی حصہ یہ کہہ کر جبراً چھینا ہو کہ یہ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے۔پس خدا کے لئے آیت کے ایسے معنی نہ کر وجس سے نعوذ باللہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء پر یہ اعتراض وارد