مضامین بشیر (جلد 2) — Page 69
۶۹ مضامین بشیر اختیار کر لے۔ہاں اگر منبع اور مقتدی کو یہ یقین ہو کہ امام غلطی کر رہا ہے تو وہ مناسب طریق پر اسے اس غلطی کی طرف توجہ دلا سکتا ہے لیکن اگر پھر بھی امام اپنے رستہ پر قائم رہے تو متبع اور مقتدی کا فرض ہے کہ وہ اس صورت میں بھی امام کی اتباع کرے۔کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو قومی اور ملی شیرازہ منتشر ہو کر خطرناک فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکیمانہ الفاظ فرمائے ہیں کہ : إِنَّمَا جُعِلَ الاِمَامُ لِيُوْ تَمَّ بِهِ۔۔۔یعنی امام کا تقرر تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔“ 66 پس نماز کا یہ معمولی سا مسئلہ بھی ہمارے لئے ایک بھاری سبق رکھتا ہے۔جس پر عمل کر کے ہم قومی تنظیم و ترقی کا دروازہ کھول سکتے ہیں مگر ساتھ ہی اسلام نے کمال حکمت سے ہمیں یہ بھی سمجھا دیا ہے کہ اگر کبھی کوئی امام غلطی کرے تو اسے گستاخانہ رنگ میں برملا طور پر یہ نہ کہا کرو کہ آپ غلطی کر رہے ہیں۔بلکہ اشارہ کنایہ کے ساتھ بتا دیا کرو کہ اس معاملہ میں غلطی ہو گئی ہے۔چنانچہ نماز میں امام کو اس کی غلطی پر توجہ دلانے کے لئے اسلام نے یہ پیارے الفاظ مقرر فرمائے ہیں کہ سبحان اللہ یعنی غلطی اور بھول چوک سے پاک تو صرف خدا ہی کی ذات ہے“۔ان الفاظ میں حکمت یہ ہے کہ ایک طرف امام کا ادب و احترام بھی قائم رہے اور دوسری طرف اسے ان الفاظ سے اس طرف توجہ بھی ہو جائے کہ جب مجھے خدا کا بے عیب ہونا یاد دلایا جا رہا ہے تو شاید مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔اس طرح اس چھوٹے سے مسئلہ میں اسلام نے اتحاد قومی اور اتباع امام اور احترام امیر کے گہرے فلسفہ کو اس طرح بھر دیا ہے کہ جس طرح ہماری زبان کے محاورہ میں ایک کوزے کے اندر دریا بھر دیا جاتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ اگر کوئی امیر دانستہ اور جان بوجھ کر کوئی ایسا مسلک اختیار کرے جو صریح طور پر خلاف شریعت ہے تو اس صورت میں اسلام کیا تعلیم دیتا ہے؟ سو جہاں تک خدا کے مقرر کردہ دینی خلفاء کا تعلق ہے۔ان کے متعلق یہ صورت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔کیونکہ خدا جس نے ان کو خلیفہ بنایا ہوتا ہے، خود ان کا محافظ ہوتا ہے اور گو وہ اجتہادی غلطی کر سکتے ہیں اور رائے کی لغزش سے بالا نہیں ہوتے مگر وہ دانستہ اور جان بوجھ کر کسی خلاف شریعت راستہ پر گامزن نہیں ہوتے۔ہاں دنیوی اور سیاسی امراء کا معاملہ جدا گانہ ہے۔جن کے لئے شریعت نے علیحدہ احکام جاری فرمائے ہیں مگر اس جگہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔( مطبوعه الفضل ۲۴ فروری ۱۹۴۷ء)