مضامین بشیر (جلد 2) — Page 68
مضامین بشیر ۶۸ نماز میں اتباع امیر اور اتحاد ملت کا لطیف سبق پرسوں مغرب کی نماز کے وقت چونکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت ناساز تھی۔اس لئے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے نماز پڑھائی اور بتقاضائے بشری تیسری رکعت میں دو سجدوں کی بجائے چار سجدے کر گئے۔بعض قریب کے مقتدیوں نے ”سبحان اللہ کہہ کر اس غلطی کی طرف توجہ بھی دلائی مگر مولوی صاحب نے اس کا خیال نہ کیا اور اپنی یاد کو صحیح سمجھتے ہوئے چارسجدے پورے کر گئے اور جیسا کہ شریعت کا مسئلہ ہے ، ان کی اتباع میں ہم سب کو بھی چارسجدے ہی کرنے پڑے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اسلام کیسا کامل اور حکیمانہ مذہب ہے کہ اس معمولی سے مسئلہ میں بھی اس نے اتباع امیر اور اتحاد ملت کا سارا فلسفہ بھر دیا ہے۔جو یہ ہے کہ اگر کبھی تمہارا امام کوئی اجتہادی غلطی کرتا ہے یا بشری کمزوری کے ماتحت بھول چوک اور نسیان کا مرتکب ہوتا ہے اور یہ غلطی یا بھول چوک ایسی ہوتی ہے کہ تم اسلامی تعلیم کے ماتحت یقین رکھتے ہو کہ وہ حقیقتاً ایک غلطی اور بھول چوک ہے تو اس صورت میں تم واجبی ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے اس غلطی کی طرف توجہ دلا سکتے ہو لیکن اگر پھر بھی وہ اپنے فعل کو درست خیال کرتے ہوئے اپنے رستہ پر قائم رہے تو تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہے کہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاؤ یا اس کے فعل کے خلاف عمل شروع کر دو بلکہ اس صورت میں بھی تمہارا فرض ہے کہ امام کو غلطی خوردہ سمجھنے کے باوجود اس کا ساتھ دو اور بہر حال اس کے فعل کی اتباع کرو تا کہ قومی اتحاد میں رخنہ نہ پیدا ہو۔یہ وہ لطیف اور اصولی سبق ہے جو نماز سے تعلق رکھنے والے ایک معمولی سے مسئلہ سے ہمیں حاصل ہوتا ہے اور یہ سبق اسلام کے کمال اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی ایک بین دلیل ہے۔کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اپنے تمام احکام کو خواہ وہ کسی میدان سے تعلق رکھتے ہیں اور خواہ وہ بڑے ہیں یا چھوٹے ، بعض مشتر کہ اصولوں کی لڑی میں پرو رکھا ہے۔جیسا کہ نماز کے اس مسئلہ کو کہ اگر امام کوئی بات بھول جائے تو مقتدیوں کو کیا کرنا چاہئے۔اتباع امیر اور اتحاد ملت کے اصول کے ساتھ پیوست کر دیا گیا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ امام کی ہر حالت میں اتباع کرنی چاہئے خواہ وہ ٹھیک رستہ پر گامزن ہو یا کہ کسی وقت بھول کر کوئی غلط رستہ