مضامین بشیر (جلد 2) — Page 70
مضامین بشیر < • قادیان میں الحمد للہ سب خیریت ہے گزشتہ ایام کے فسادات کی وجہ سے قادیان بیرونی علاقوں سے بالکل کٹ گیا تھا کیونکہ نہ ریل باقی رہی تھی نہ ڈاک نہ تارا اور نہ ٹیلیفون۔ان ایام میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جو آج کل سندھ میں تشریف رکھتے ہیں۔مختلف مقامات سے تاریں دلوا کر حالات سے مطلع رکھنے کی کوشش کی گئی۔مگر معلوم ہوا ہے کہ ان تاروں میں سے بہت کم تاریں حضور تک پہنچ سکی ہیں۔اسی طرح جو تاریں بیرونی جماعتوں کی خیریت دریافت کرنے اور مرکز سلسلہ کی خیریت کی خبر پہنچانے کے متعلق دی گئیں ، وہ بھی بہت کم پہنچ سکی ہیں۔البتہ گا ہے گا ہے لاہور اور امرتسر کی جماعت کے ساتھ بعض ذرائع سے مواصلات قائم کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔اس عرصہ میں الفضل کو بھی یک ورقہ صورت میں بدل دیا گیا تھا کیونکہ اس کے باہر بھجوانے کی کوئی صورت نہیں تھی اور نہ ہی باہر سے خبریں موصول ہونے کا کوئی انتظام تھا۔اب چونکہ خدا کے فضل سے کم از کم وقتی طور پر حالات پر امن ہیں۔اور ڈاک بھی اولاً تانگوں کے ذریعہ سے اور اب روزانہ ایک ڈیزل کار کی سروس قائم ہو جانے کی وجہ سے جاری ہو گئی ہے۔اس لئے اس اعلان کے ذریعہ احباب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ قادیان میں خدا کے فضل سے ہر طرح خیریت ہے اور سندھ سے آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی معہ اہل و عیال و عملہ ہر طرح خیریت سے ہیں۔لاہور اور ملتان اور امرتسر سے بھی اطلاع پہنچ چکی ہے کہ وہاں کی جماعتیں خدا کے فضل سے بخریت ہیں۔البتہ امرتسر میں ایک دوست کو خفیف ضربات آئی تھیں مگر اب وہ رو بصحت ہیں۔امرتسر میں جماعت کے بعض دوستوں کا کچھ مالی نقصان بھی ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر ہو۔راولپنڈی اور بعض دوسرے مقامات کے دوستوں کے متعلق ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔احباب دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں کے ایام میں جماعت کو اس کے پیارے امام کی قیادت میں ہر طرح خیریت و حفاظت کے ساتھ رکھے اور دوسرے مسلمانوں ، ہندوؤں اور سکھوں کو بھی توفیق دے کہ وہ آپس میں امن اور محبت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فسادات کے ابتدا میں ہی قادیان میں ایک امن کمیٹی بنادی گئی تھی۔جس میں احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں اور سکھوں اور ہندوؤں نے بھی شرکت کی اور اس کمیٹی کی وجہ سے قادیان اور اس کے ماحول میں الحمد للہ اچھا اثر پیدا ہوا ہے۔( مطبوعہ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۴۷ء)