مضامین بشیر (جلد 2) — Page 489
۴۸۹ مضامین بشیر بیسیوں ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔تو اگر وہ اپنی اپنی حکومتوں کے وفا دار ہوں (جیسا کہ وہ ہیں ) تو کیا ان کا رویہ اس وجہ سے قابل اعتراض سمجھا جائے گا ؟ یہ ایک بالکل موٹی سی بات ہے جو نہ معلوم کس وجہ سے جماعت احمدیہ کے متعلق رائے لگاتے ہوئے ہمیشہ بھلا دی جاتی ہے۔یہ سوال کہ قادیان کا مرکز اس وقت انڈین یونین کے ماتحت ہے کوئی فرق پیدا نہیں کرتا ، آخر تقسیم سے پہلے بھی قادیان ساری دنیا کی حکومتوں کے ماتحت نہیں تھا بلکہ صرف گورنمنٹ آف انڈیا کے ماتحت تھا۔لیکن کیا اس وقت جماعت احمدیہ کے لوگ صرف ہندوستان میں ہی پائے جاتے تھے اور کسی اور ملک میں نہیں پائے جاتے تھے ؟ تو جب اُس وقت ہندوستان کے باہر کے احمدی قادیان سے مذہبی عقیدت رکھنے کے باوجود اپنی اپنی حکومت کے وفادار شہری تھے اور اس وقت اس طریق پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تو کیا وجہ ہے کہ اب اسی قدیم مسلک پر گامزن ہونے کی وجہ سے جماعت احمد یہ کے خلاف اعتراض کیا جاتا ہے۔اگر اعتراض کرنے والوں کا یہ منشاء ہو کہ پاکستان کے رہنے والے احمدی بھی دراصل حکومت انڈین یونین کے وفا دار ہیں اور صرف ظاہر میں پاکستان کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں تو یہ الزام قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد اور جھوٹا ہے اور ہم اس کا بار بار اعلان کر چکے ہیں۔پاکستان کا ہر احمدی پاکستان کے لئے دوسروں سے بڑھ کر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور جماعت احمدیہ کا اس وقت تک کا ریکارڈ اس بات کی کافی شہادت پیش کرتا ہے کہ خدا کے فضل سے ہمارا یہ دعوئی جھوٹ اور مبالغہ سے پاک ہے۔والله على ما نقول شهيد باقی رہا قادیان کی بحالی کی کوشش ، سو یہ ایسی بات ہے جس پر ہر عظمند مسلمان کو خوش ہونا چاہیئے نہ کہ ناراض۔اگر قادیان بحال ہوگا تو بہر حال اس میں اسلامی ماحول قائم ہوگا یعنی اسلام کی تعلیم و تربیت ہوگی۔اسلام کی تبلیغ ہو گی۔مسجد میں آباد ہوں گی۔خدا اور رسول کا نام بلند ہوگا۔قرآن کریم کی تلاوت کی آواز اٹھے گی اور ہر لحاظ سے موجودہ حالات میں بہتری کی صورت پیدا ہو گی تو پھر اس کوشش میں وہ کونسی بات ہے کہ جس پر کوئی سچا مسلمان ناراض ہو اور غیظ وغضب میں آکر جماعت احمد یہ کو کوسنے لگے ؟ ہر شخص جانتا ہے کہ جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے اور اس کا اصل اور بنیادی کام تبلیغ و تربیت سے تعلق رکھتا ہے اور اس لحاظ سے صرف قادیان پر ہی نہیں ہماری تو خواہش اور کوشش ہے کہ سارے ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں ہی اسلامی ماحول قائم ہو جائے اور دراصل بالآخر یہی نظریہ اسلام کی عالمگیر کامیابی کی بنیاد بنے گا۔پس خدا را اس نازک زمانہ اور فتنوں کے دور میں اس قسم کے لایعنی سوالات اٹھا کر ملک میں