مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 488 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 488

مضامین بشیر ۴۸۸ کیا ہمارا پاؤں دوکشتیوں میں ہے؟ جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک لاہور کے بعض اخباروں میں اس قسم کے اعتراض جماعت احمدیہ کے خلاف شائع ہوئے ہیں کہ گویا سیاسی مسلک کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کا پاؤں دو کشتیوں میں ہے کہ وہ ایک طرف اپنے مرکز قادیان کی وجہ سے جو اس وقت انڈین یونین کے ماتحت ہے ، حکومت ہندوستان کے سامنے وفاداری کا اعلان کر رہی ہے اور دوسری طرف اپنے امام کے پاکستان آجانے کی وجہ سے پاکستان کی حکومت کے ساتھ بھی وفاداری کا اظہار کر رہی ہے اور اس طرح اس کی سیاسی پالیسی نعوذ باللہ منافقانہ ہے اور وہ دوکشتیوں میں پاؤں رکھ کر دونوں طرف سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔افسوس ہے کہ موجودہ نازک زمانہ میں جب کہ سیاسی لحاظ سے کئی قسم کے اہم اور پیچدار مسائل حکومت پاکستان کے سامنے ہیں اور وہ ایک ایسے نازک دور میں سے گذر رہی ہے کہ جس میں کامل سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے۔بعض ناعاقبت اندیش لوگ جو ملک کے حقیقی مفاد سے ناواقف ہیں محض جماعت احمدیہ کی مخالفت کی غرض سے اس قسم کے اعتراضات کھڑے کر کے افتراق وانشقاق کا بیج بونا چاہتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک جو عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے ، ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جس حکومت کے ماتحت بھی کوئی احمدی رہے اُسے اس حکومت کا پُر امن شہری بن کر رہنا چاہیئے اور عقلاً بھی جو جماعت بین الاقوامی رنگ رکھتی ہے اس کا یہی مسلک ہو سکتا ہے کہ عقائد اور مذہب کے اتحاد کے باوجود اس کے افراد جس جس حکومت کے ماتحت بستے ہوں اس کے وفادار ر ہیں۔خود قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو نہایت واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت انڈین یونین کے وفادار شہری بن کر رہیں۔اسی طرح گاندھی جی نے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت پاکستان کے وفادار ر ہیں۔پس عجب ہے اور نہایت درجہ تعجب ہے کہ جو سیاسی مسلک دنیا بھر میں مسلم ہے اس کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو مورد عتاب سمجھا جاتا ہے۔آخر مسلمان بھی تو ایک حکومت کے ماتحت نہیں بستے۔بلکہ دنیا کے