مضامین بشیر (جلد 2) — Page 438
مضامین بشیر ۴۳۸ یعنی اے خدا کے مسیح وہ خدا جس نے تجھے قرآنی خدمت کے لئے معبوث کیا ہے۔وہ تیری ہی بعثت اور اپنی باعثیت کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ تجھے ضرور ضرور قادیان سے نکلنے کے بعد پھر دوبارہ قادیان میں واپس لائے گا کیونکہ قرآنی علوم کی خدمت کا کام قادیان کے ساتھ ابدی طور پر وابستہ ہو چکا ہے۔یہ وہ سات مضبوط اور نہ ٹوٹنے والی دل کی تاریں ہیں۔جو ہر مخلص احمدی کے دل و دماغ کو قادیان کے ساتھ باندھے ہوئے ہیں اور ہمیشہ باندھے رہیں گی۔اور دراصل کسی چیز کے مقدس ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے ساتھ بعض خاص روحانی وابستگیاں Spiritual Associations لاحق ہوں۔اور ظاہر ہے کہ جتنی جتنی یہ روحانی وابستگیاں زیادہ اہم اور زیادہ متنوع اور زیادہ کثیر التعداد ہوں گی۔اتنا ہی زیادہ کسی چیز کا تقدس سمجھا جائے گا۔اور اس لحاظ سے قادیان کا تقدس وہ ارفع شان رکھتا ہے جو ہندوستان و پاکستان کے کسی اور مقام کو حاصل نہیں۔گویا حضرت مسیح موعود السلام کی ولادت اور زندگی ما قبل البعثت اور زندگی ما بعد البعثت اور وفات اور زمانہ ما بعد الوفات کا ہر لمحہ قادیان کے ساتھ ابدی تاروں کے ذریعہ وابستہ ہو چکا ہے وَلَا انفِصَامَ لَهَا۔قادیان کی وقتی یا دیں مگران مستقل اور دائی کششوں کے علاوہ قادیان کو بعض وقتی اور عارضی کششیں اور یادیں بھی حاصل ہیں جو بعض خاص خاص ایام کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب جب بھی یہ ایام آتے ہیں۔یہ یا دیں بیدار ہو کر ہمارے دلوں میں چنکیاں لینی شروع کر دیتی ہیں۔یہ کششیں زیادہ تر چار مواقع کے ساتھ وابستہ ہیں۔اول : رمضان کا مبارک مہینہ جو قادیان میں اپنے گونا گوں روحانی مناظر کی وجہ سے گویا ایک جیتی جاگتی مجسم صورت اختیار کر لیتا تھا۔روزہ نفلی نمازیں۔تراویح۔درس القرآن۔خاص دعائیں صدقہ و خیرات اور بالآخر روحانی خوشی کی حامل عید وغیرہ۔یہ وہ چیزیں تھیں جن سے قادیان کا رمضان ایک مجسم روحانی زندگی بن جاتا تھا اور اس زندگی میں جماعت کا ہر فر د بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔دوم قادیان کا سالانہ جلسہ جس میں قادیان کی سرزمین گویا ارض حرم کی صورت اختیار کر لیتی تھی جس کی طرف ہر شخص لبیک کہتا ہوا روحانی برکات حاصل کرنے کے لئے دوڑا آتا تھا۔سوم : قادیان کی مجلس مشاورت جس میں جماعت کے نمائندے اہم جماعتی امور کے متعلق مشورہ