مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 439 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 439

۴۳۹ مضامین بشیر کرنے کی غرض سے جمع ہوتے تھے۔چهارم: موصی صحابہ کی وفات جبکہ قادیان کے لوگ جوق در جوق مقبرہ بہشتی میں جمع ہوتے اور اپنے مرنے والے بزرگ کے لئے آخری دعا کرنے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور دوسرے بزرگوں کے مزار پر منظر عانہ دعائیں کرتے تھے۔لیکن اب قادیان سے باہر آجانے پر جو بزرگ بھی فوت ہوتا ہے وہ مجبوراً باہر دفن کیا جاتا ہے اور ہر ایسے موقع پر دل ایک ایسی چوٹ محسوس کرتا ہے کہ اسے ایک حساس مومن ہی سمجھ سکتا ہے۔قیام مرکز ربوہ کا رد عمل بہر حال یہ وہ وقتی اور عارضی یا دیں ہیں جو قادیان کے متعلق دل میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔اور اب جبکہ جلسہ سالانہ کا وقت قریب آرہا ہے قادیان کی یاد پھر دل میں اُٹھ اُٹھ کر تلاطم بر پا کر رہی ہے۔اور اس کے ساتھ جوں جوں نئے مرکز پاکستان یعنی ربوہ کی تجویز عملی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔قادیان کی یاد زیادہ تیز ہوتی جاتی ہے۔ربوہ کے مرکز کا قیام بظاہر دو متضاد مگر به باطن متحد جذبات پیدا کر رہا ہے۔ایک طرف تو وہ اس تسلی کا موجب ہے کہ خدا خدا کر کے ہمیں موجودہ انتشار کے بعد ایک مرکز حاصل ہو رہا ہے جہاں ہم اکٹھے رہ کر اور اپنا ماحول بنا کر اپنے جماعتی پر وگرام کو چلاسکیں گے۔اور دوسری طرف وہ لازماً قادیان کی یاد کو بھی تیز تر کر رہا ہے۔کیونکہ اب تک تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہم گویا قادیان کے لئے ہر وقت پا در رکاب بیٹھے ہیں کہ اب قادیان کی واپسی کا رستہ کھلا اور ہم اس کی طرف لیکے۔لیکن اب یہ صورت نظر آرہی ہے کہ گویا قادیان کی قائم مقامی میں ہم ایک اور عارضی مرکز بنا کر بیٹھنے لگے ہیں۔اور قادیان کی واپسی جب ہو گی سو ہو گی۔پس اس ذہنی کیفیت نے بھی آجکل ایک دماغی اور قلبی ہیجان بر پا کر رکھا ہے جسے ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق محسوس کر رہا ہے۔اصل چیز حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض و غائیت کو پورا کرنا ہے لیکن با وجود اس کے ایک بات ہے جو ہر سمجھدار احمدی کا دل جانتا اور محسوس کرتا ہے اور جو شخص ابھی تک نہیں جانتا اور نہیں محسوس کرتا اسے جانا اور محسوس کرنا چاہیئے۔وہ بات یہ ہے کہ قادیان کو خواہ کتنا ہی نقدس اور کتنی ہی اہمیت حاصل ہو اس کا درجہ بہر حال محض ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اور درجہ اوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا داد مشن کی تکمیل اور آپ کی بعثت کی غرض وغایت کو پورا کرنے سے متعلق ہے۔اس کی مثال موٹے طور پر یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر ہمیں قادیان تو واپس مل