مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 437 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 437

۴۳۷ مضامین بشیر کا پیغام لے کر آئی ہے اور جس کے متعلق مقدس بائی احمدیت فرماتے ہیں۔اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس خدا کی پیشگوئی ہے۔جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مراد رکھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہیگا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔۔۔دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا۔اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔(۵) قادیان ہی وہ مقام ہے جہاں حضرت خاتم الاولیا علیہ الصلوۃ والسلام (الذى لا ولى بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِي هُوَمِنْهُ وَعَلَى عَهْدِهِ ) کا مقدس جسد خاکی دفن ہوا۔اور جس کی زمین کو خدا کی وحی نے بہشتی مقبرہ قرار دیا اور اس مقبرہ کی مٹی کو رویا میں چاندی کی صورت میں ظاہر فرمایا۔(۶) قادیان ہی وہ بابرکت قریہ ہے جو خدا کی ازلی تقدیر کے ماتحت جماعت احمدیہ اور تحریک احمدیت کا دائمی مرکز قرار پایا۔جسے ظلی طور پر ارض حرم اور تخت گاہِ رسول کا لقب عطا ہوا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پھر فرماتے ہیں : زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق ارض حرم ہے قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے ضروری ہے کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اسے برکت دی ہے (ضمیمہ رسالہ الوصیت ) اس مؤخر الذکر وجہ کی بناء پر قادیان کی مرکزیت صرف تاریخی نوعیت ہی نہیں رکھتی۔بلکہ وہ ایک عالمگیر مذہبی تحریک کا زندہ اور تنظیمی مرکز بھی ہے۔جو ابدالاباد تک کے لئے قائم کیا گیا ہے۔( ۷ ) قادیان ہی خدا کی وہ محبوب بستی ہے کہ جب ایک خدائی تقدیر کے ماتحت وہاں جماعت احمدیہ کو نکلنا پڑا تو اس کے متعلق خدا نے پہلے سے ان زور دار الفاظ میں تسلی دے رکھی تھی کہ اِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ ه - ۱۳۱