مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 416

مضامین بشیر ۴۱۶ عدم مساوات کی مرض کا صحیح علاج اب رہا یہ سوال کہ وہ صحیح علاج کیا ہے۔سو گو یہ اس مضمون کے بیان کرنے کا موقع نہیں۔مگر اختصار کے رنگ میں صرف اس قدر بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام خدا کے فضل سے ایک کامل و مکمل مذہب ہے۔جس میں ہر بیماری کا علاج پایا جاتا ہے۔اور خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں موجودہ عدم مساوات کے صحیح علاج اور کمیونزم کے خطرات کے متعلق کافی مواد موجود ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں لوگ اسلام کی معروف تعلیم کو بھی بھولے ہوئے ہیں اور گھر کے پاک اور بھر پور چشمہ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر کے ناصاف پانیوں سے اپنا جام بھرنا چاہتے ہیں۔بہر حال اس معاملہ میں اسلام کی معروف تعلیم کا خلاصہ ذیل کے چند فقروں میں آجاتا ہے۔(۱) اپنی وسعت کے لحاظ سے نمبر اول پر اسلام کا قانون ورثہ ہے۔جس کی وجہ سے ہر مالدار اور ہر صاحب املاک کی دولت اس کی وفات پر صرف بڑے بیٹے یا صرف نرینہ اولا د کو ہی نہیں جاتی بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں اور بیوی اور ماں اور باپ وغیرہ جملہ ورثا کو بحصہ رسدی پہونچتی ہے۔اور اس طرح ملکی دولت کے سمونے کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے۔اور یہ نہیں ہوتا کہ خاندانوں کا ایک حصہ تو دولت مند ہو جائے اور دوسرا حصہ غربت میں مبتلا رہے۔(۲) زکوۃ کا نظام جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ زریں ارشادفرماتے ہیں۔کہ تُو خَـدُمِنُ أَغْنِيَا نِهِمُ وَتُرَدُّ إِلى فُقَرَائِهِمْ یعنی زکوۃ وہ ٹیکس ہے جو دولتمندوں کی دولت پر اس لئے لگایا جاتا ہے کہ ان کی دولت کا ایک حصہ کاٹ کر غرباء میں تقسیم کیا جائے۔جو دولت کے پیدا کرنے میں امیروں کے پہلو بہ پہلو کام کرتے ہیں۔یہ ٹیکس مختلف حالات کے ماتحت اڑھائی فیصدی سے لے کر ہیں ۲۰ فیصدی تک پہنچتا ہے اور پھر یہ ٹیکس صرف نفع پر ہی نہیں لگتا بلکہ سرمایہ پر بھی لگتا ہے۔(۳) زکوۃ کے علاوہ دوسرے عام صدقہ و خیرات کی تعلیم جس سے قرآن شریف اور حدیث بھرے پڑے ہیں۔حتی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کے متعلق حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ رمضان میں جو کہ غرباء کی خاص ضرورت کا زمانہ ہوتا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنے والی ہوتی ہے ، اس طرح صدقہ کرتے تھے کہ گویا ایک تیز آندھی چل رہی ہے جو کسی روک ٹوک کو خیال میں