مضامین بشیر (جلد 2) — Page 417
۴۱۷ مضامین بشیر نہیں لاتی۔(۴) سود کی ممانعت اور سود وہ لعنت ہے جس کی وجہ سے ملک کی دولت سمٹ سمٹ کر چند لوگوں کے ہاتھ میں جمع ہو جاتی ہے۔بے شک موجودہ زمانہ میں سود کا جال وسیع ہو جانے کی وجہ سے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ شاید سود کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا۔مگر یہ صرف نظر کا دھوکہ ہے جو موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ورنہ جب مسلمان نصف دنیا سے زائد حصہ پر حکمران تھے اس وقت سود کے بغیر ساری تجارتیں چلتی تھیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی چلیں گی۔(۵) جوئے کی ممانعت۔جوا اول تو لوگوں میں بریکاری کی عادت پیدا کرتا ہے۔اور دوسرے مال کمانے کو محنت اور کوشش اور ہنر پر مبنی قرار دینے کی بجائے محض اتفاق پر مبنی قرار دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں دولت کی نا واجب تقسیم کا رستہ کھلتا ہے۔(1) اسلام کی یہ تعلیم کہ ہر اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لئے کم از کم یہ چیزیں مہیا کرے ( الف ) خوراک (ب) کپڑا ( ج ) مکان ( د) اقل تعلیم کا انتظام اور ( ھ ) غیر معمولی بیماریوں کا علاج۔(۷) اسلام کی یہ تعلیم کہ ترقی کرنے کے دروازے ہر مسلمان کے لئے یکساں کھلے ہیں۔اور اس کے لئے کوئی قومی یا نسلی یا خاندانی امتیاز ملحوظ رکھنا جائز نہیں۔بلکہ ہر شخص جو اہل ہے آگے آ سکتا ہے اور ا سے آگے آنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔(۸) اسلام کی مساوات کی عام تعلیم مثلاً یہ کہ ہر مسلمان کو اپنا بھائی سمجھو۔نمازوں میں امیرو غریب بغیر کسی امتیاز کے اکٹھے کھڑے ہوں۔حج میں امیر وغریب تمام امتیازات کو قطعی طور پر مٹادیں۔امراء اپنے کھانے میں سے اپنے غریب نوکروں کو حصہ دیں۔اور انہیں اس کھانے میں شریک کریں جو وہ کھاتے ہیں۔کوئی نو کر اس لئے نہ رکھیں کہ کوئی کام ایسی ادنے نوعیت کا ہے جسے آقا نہیں کر سکتا۔بلکہ اس لئے رکھیں کہ کام اتنا ہے کہ آقا اسے خود اکیلا نہیں کرسکتا۔امراء کی دعوتوں میں غرباء کو شریک کرنے کی تحریک۔وغیرہ وغیرہ مؤخر الذکر تعلیم اس غرض سے ہے کہ تا عملی افتراق کے دور کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے دماغوں میں سے بھی ایک دوسرے سے تفریق اور امتیاز کے خیالات کو دور کیا جائے کیونکہ اصل بیماری دماغ سے پیدا ہوتی ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر پاکستان کی حکومت اور ملک کا پریس اور ملک کے ذمہ دار لوگ اوپر کی تعلیم پر عمل پیرا ہو جائیں تو اس کے ذریعہ سے بھاری اصلاح پیدا ہو سکتی ہے۔