مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 415 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 415

۴۱۵ مضامین بشیر ہرگز درست نہیں کہ ہم عدم مساوات کے احساس کو کمیونزم کے ساتھ غلط ملط کر کے اپنے اندر ایک نئے فتنہ کا دروازہ کھول دیں۔گرتے ہوؤں کو دھکا دینے کی بجائے انہیں آگے بڑھ کر سنبھالنا چاہئے 119 ہمارے مقدس آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے حالات میں گرتے ہوؤں کو دھکا دینے کی بجائے انہیں سنبھالنے کی تاکید فرمائی ہے اور آپ کا اپنا اسوۂ حسنہ اس معاملہ میں ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب ایک دفعہ مسلمانوں کی ایک پارٹی کفار کی ایک زیادہ طاقتور پارٹی کے مقابلے سے ہٹ کر مدینہ میں واپس آگئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا کہ یہ لوگ شرم اور ندامت کی وجہ سے مسجد نبوی کے ایک کو نہ میں چھپے بیٹھے ہیں تو اس پر آپ فوراً ان کے پاس پہنچے۔اور ان سے جا کر پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں۔جس پر انہوں نے شرم کی وجہ سے سر نیچے ڈالے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ( یعنی یا رسول اللہ ہم لوگ بھگوڑے ہیں۔) تو اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گری ہوئی ہمتوں کو بلند کرنے اور ان کی دماغی روکا کا نشاہد لنے کے لئے فوراً یہ دانشمندانہ الفاظ فرمائے۔کہ لَا بَلْ أَنْتُمُ كَرَّارُونَ ( یعنی نہیں نہیں بلکہ تم تو اس لئے پیچھے ہٹے تھے کہ دوبارہ زیادہ زور کے ساتھ حملہ کرو ) اس بظاہر چھوٹی مگر بہ باطن حکمت و دانائی سے معمور بات نے ایک بجلی کے بٹن کی طرح جو آنِ واحد میں اپنے ماحول کو روشن کر دیتا ہے ان کی گری ہوئی طبیعتوں کو اوپر اٹھا دیا اور وہ یہ کہتے ہوئے اچھل کر کھڑے ہو گئے کہ یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں۔اس واقعہ سے ہمیں موجودہ بحث میں یہ بھاری سبق ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی کمیونزم کی طرف جھک رہا ہو تو تب بھی ہمیں چاہئے کہ حکیمانہ رنگ میں اس کی دماغی رو کو بدلنے کی کوشش کریں نہ یہ کہ معصوم لوگوں کو بھی محض عدم مساوات کے احساس پر ہی کمیونزم کی طرف دھکیلنا شروع کر دیں۔موجودہ عدم مساوات کا احساس تو کثیر التعداد لوگوں میں پایا جاتا ہے اور فی الجملہ وہ درست بھی ہے مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم انہیں بلا وجہ کمیونسٹ کہہ کر آگ کے یہ گڑھے میں دھکیل دیں۔بلکہ یہ نتیجہ ہونا چاہئے کہ ہم ان کے سامنے موجودہ نقص کا صحیح علاج پیش کریں۔