مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 286 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 286

مضامین بشیر ۲۸۶ آئندہ ترقی اور فتوحات کے وعدے بھی انشاء اللہ ضرور پورے ہوں گے اور کوئی نہیں جو انہیں روک سکے۔(۷) بالآخر قادیان کی ظاہری ترقی اور شان و شوکت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل رویاء نے بھی بہر حال پورا ہونا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ ظاہری ترقی کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔فرماتے ہیں :- ' ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا۔اور انتہائی نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔اونچی اونچی دومنزلی یا چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے (احمدی ) سیٹھ بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسم قسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔یکے ، بگھیاں ، ٹم ٹم فٹن ، پالکیاں ، گھوڑے شکر میں ، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔اور ایک دوسرے کشف میں فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ قادیان کی آبادی بیاس دریا تک پھیل گئی ہے۔یہ سب کچھ ہوگا اور ممکن نہیں کہ خدا کے وعدے غلط ہو جائیں مگر ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کریں، اپنے علموں کو ترقی دیں ، اپنے اعمال کو درست کریں ، اپنے ظاہر و باطن کو شریعت کے مطابق بنائیں اور خدمت دین کی وہ شان پیدا کریں جو دنیا میں صحابہ کی یاد کو تازہ کر دے تا کہ ہماری زندگیاں سچ مچ ہمارے اس عہد کی علمبر دار ہو جائیں کہ : میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا ۶۴ ۲۵ یہ وہ عہد ہے جو ہر احمدی بیعت کرتے ہوئے خدا کے ساتھ باندھتا ہے۔کاش یہ عہد ہمارے دلوں پر اور ہمارے دماغوں پر اور ہماری زبانوں پر اور ہمارے چہروں پر اور ہمارے سینوں پر اور ہمارے ہاتھوں پر اور ہمارے پاؤں پر اس طرح لکھا جائے کہ آسمان پر ہمارا خدا اسے دیکھے اور خوش ہو اور زمین پر اس کی مخلوق اسے دیکھے اور حق کی طرف ہدایت پائے۔اگر یہ بات میسر آ جائے تو انشاء اللہ قادیان کی واپسی ہمارے لئے قریب تر ہو جائے گی اور یہ واپسی یقیناً ہمارے لئے بیش از پیش رحمتوں کا موجب ہوگی اور اگر یہ نہیں تو پھر خدا ہی ہمارا حافظ ہوا اور ہم ہر حال میں اس کی بخشش کے اُمیدوار ہیں۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين - ( مطبوعہ الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۴۸ء)