مضامین بشیر (جلد 2) — Page 287
۲۸۷ ہماری روزانہ دعائیں کیا ہونی چاہئیں دعاؤں کے متعلق اسلام کا ایک جامع نظریہ مضامین بشیر جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے اسلام کا مرکزی نقطہ خدا تعالی کی ذات والا صفات ہے مگر بعض دوسرے مذہبوں کی طرح اسلام خدا تعالیٰ کے وجود کو محض فلسفیانہ رنگ میں پیش نہیں کرتا کہ ایک دُور دراز کی ہستی کی طرف اشارہ کر کے کہہ دے کہ اس پر ایمان لاؤ اور بس۔بلکہ وہ اس خالق و مالک ہستی کو ہمارے تعلقات اور ہماری تو جہات کا مرکز قرار دیتا ہے اور ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم خدا کی ذات پر صرف ایمان ہی نہ لائیں بلکہ اس کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کر لیں اور اسے اپنی تمام تو جہات کا مرکز بنا ئیں اور پھر اسلام خالق و مخلوق کے اس عملی تعلق کو دونوں جہت سے قائم فرماتا ہے۔یعنی خدا کی طرف سے بھی اور بندے کی طرف سے بھی۔خدا کی طرف سے یہ تعلق تین صورتوں میں قائم کیا گیا ہے اوّل۔بندوں کی بہبودی کے لئے خدا کی طرف سے احکام شریعت کا نازل ہونا تا کہ بندے ان احکام پر عمل کر کے اصلاح اور ترقی کے رستہ پر گامزن ہوں۔دوم - بندوں کے نیک اعمال پر اچھے نتائج مترتب کرنا اور بداعمالی پر تادیب اور سزا کا طریق اختیار کرنا تا کہ لوگوں کو اپنے اعمال کی اصلاح کے لئے صرف اخلاقی تحریک ہی نہ رہے بلکہ ایک باقاعدہ ضابطہ اور نظام قائم ہو جائے۔سوم۔بندوں کی دعاؤں کو قبول کر کے انہیں تکالیف سے بچانا یا انعامات کا وارث بنانا۔اس کے مقابل پر بندوں کی طرف سے بھی یہ تعلق تین صورتوں میں قائم ہوتا ہے۔اول۔خدا کی طرف سے نازل شدہ احکام کی فرمانبرداری۔دوم۔ذکر الہی اور عبادات میں شغف۔سوم۔اپنی ذاتی یا خاندانی یا قومی ضرورتوں کے متعلق خدا کے حضور دعائیں۔اس دہرے نظام سے اسلام میں خدا کے وجود کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر قائم کر دیا ہے جو ہر آن ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں ہمارا خدا ہمیں کچھ دے نہ رہا ہو۔یا ہم اپنے خدا سے کچھ لے نہ رہے ہوں۔مگر اس جگہ میرا یہ نوٹ صرف دعاؤں کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔اور دعاؤں کے بھی صرف اس حصہ سے تعلق رکھتا ہے جو ہماری روزانہ دعاؤں سے وابستہ ہے۔یعنی اس جگہ مجھے دعاؤں کا فلسفہ