مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 285 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 285

۲۸۵ د یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔پس خدا اسے ان تمام اعتراضوں اور الزاموں سے بری کرے گا جو اس پر لگائے جائیں گے۔اور خدا کے حضور اس کا یہ بندہ صاحب عزت و بزرگی ہے۔کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔پس جب خدا پہاڑ جیسی مشکلات اور پہاڑ جیسی معاند ہستیوں کے خلاف اپنی تجلّی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔اور کافروں کی تدبیروں کو کمزور بنا دے گا اور مشکلات کے اس دور کے بعد سہولت اور فراخی کا دور آئے گا۔اور ویسے تو اس سے پہلے اور اس کے پیچھے خدا ہی کی حکومت ہوگی ( مگر خدا تعالیٰ اپنی کسی مصلحت سے ان مشکلات کے دور کو لائے گا ) کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں اور اب ہم اسے بنی نوع انسان کے لئے ایک نشان بنائیں گے اور وہ ہماری طرف سے مومنوں کے لئے ) رحمت کا علمبردار بنے گا۔اور یہ خدا کی ایک ایسی تقدیر ہے جو ازل سے فیصلہ شدہ مضامین بشیر ہے اور یہی وہ اٹل صداقت ہے۔جس میں اے لوگو تم شک وشبہ میں مبتلا ہو۔“ اس جامع کلام میں خدا تعالیٰ نے اَلَيسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ کے الفاظ کو تین دفعہ دہرا کر اور اُس کے بعد ہر دفعہ ایک نیا مضمون بیان کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے تین دوروں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ایک وہ جو ابتدائی دور ہے جس میں لوگوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی اور ذات کے خلاف اعتراضات ہوں گے اور خدا کی طرف سے ان اعتراضوں کے مسکت جوابوں کا سامان مہیا کیا جائے گا۔جس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور بزرگی ثابت ہوگی۔پھر اس کے بعد دوسرا دور پہاڑوں کی سی مشکلات کا آئے گا۔اور کافروں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے خلاف معاندانہ تدبیریں ہوں گی۔مگر خدا ان پہاڑوں کو پاش پاش کر دے گا۔اور کافروں کی تدبیروں کو کمزور کر کے خاک میں ملا دے گا۔اور ان مشکلات کے بعد سہولتوں اور فراخی کا زمانہ آ جائے گا۔پھر اس کے بعد تیسرا دور آئے گا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود دنیا کے لئے ایک نشان بن جائے گا اور مومنوں کی جماعت خدا کی ان ابدی رحمتوں کی وارث بنے گی جو ان کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔یہ وہ وقت ہوگا کہ جب دنیا کے شکوک وشبہات دور ہو جائیں گے اور صداقت اپنا سکہ جمالے گی۔اس تشریح سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جماعت احمد یہ اس درمیانی دور میں سے گزر رہی ہے جس میں کہ مشکلات کے پہاڑ اس کے سامنے ہیں اور کافروں کی معاندانہ تدبیریں اس کے اردگرد اپنا جال پھیلائے ہوئے ہیں۔مگر جس طرح کہ آنے والی مشکلات کے متعلق یہ سب کچھ پورا ہوا۔اسی طرح