مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 976 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 976

مضامین بشیر جواب از حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب مرحوم قادیان الصفہ قادیان بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مکر می نشی عبد الکریم صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته : آپ کا خط مجھے ملا۔میں بسبب علالت کے لکھنے پڑھنے سے آج مکمل معذور تھا۔تا ہم مختصر جواب لکھ دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں سعد اللہ کے لئے بددعا کی اور الہام إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر۔یعنی وہی بے نسل بھی رہے گا شائع کر دیا۔مقابل پر سعد اللہ کی بددعا بھی موجود ہے جو اس نے شائع کی۔غرض الہام ابتر والا اور ساتھ ہی ایک مباہلہ دونوں پبلک کے سامنے آگئے۔ابتر والا الہام تو آپ جانتے ہیں کہ پورا ہو چکا اس میں تو کوئی شک و شبہ نہیں۔مباہلہ کی دعا جو تھی وہ بھی خدا تعالیٰ نے قبول کر لی اور جو جو حضرت اقدس نے سعد اللہ کے مقابل پر ان عربی اشعار مندرجہ تمہ حقیقہ الوحی صفحه ۱۴۔۱۵ میں مانگا تھا اسے لفظی طور پر قبول کر لیا اور جو الفاظ حضور نے اس بددعا میں لکھے ہیں وہ بھی صحیح طور پر پورے ہو گئے۔منجملہ اس کے ایک شعر نمبر ۴ صفحہ ۱۴ پر درج ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں تجھے ناز اور تکبر کے ساتھ چلتا دیکھتا ہوں کیا تو طعنة النجلاء والے دن کو بھول گیا یعنی اب تو تو ناز و تکبر سے پھر رہا ہے وہ دن بھی آتا ہے جب طعنة النجلاء تیرے سامنے آ جائے گا طعن کے معنے نیزہ مارنا یا نیزہ سے زخمی کرنا اور طعنة النجلاء کے معنی ایسا زخم نیزہ کا جو بہت وسیع ہو۔یہ بددعا کا لفظ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس مباہلہ یعنی بددعا کو منظور کیا تو لفظوں کے احترام سے بالکل اسی طرح اس کو موت دی یعنی طاعون جو نمو نیا پلیگ کی قسم کا تھا، اس سے وہ ہلاک ہو گیا۔طعنہ کے معنی لفظی طاعون کے نہیں ہیں لیکن لفظی مشابہت طعنہ اور طاعون میں اتنی ہے کہ اس کی وفات خدائی نیزہ کے زخم سے ہوئی لیکن وہ گلٹی والی پلیگ سے بھی مرسکتا تھا اور صرف بخار والی پلیگ سے بھی مرسکتا تھا کیونکہ یہ ہر دو صورتیں بھی طاعون ہی کہلاتی ہیں لیکن لفظ مجلاء یعنی وسیع اور بڑے زخم کی تعریف کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اسے وہ طاعون دیا جو وسیع اور بڑا زخم پیدا کرنے والا تھا ، یعنی نمونیا پلیگ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ گلٹی والے اور صرف بخار والے طاعون میں اگر چہ وہ بھی طعنہ یعنی خدائی مار کا زخم ہے اتنی فراخی اور وسعت زخم کی نہیں ہوتی جتنی نمونیا والے طاعون میں ، کیونکہ نمونیا والے طاعون میں دونوں پھیپھڑے اتنے متورم یعنی زخمی ہو جاتے ہیں کہ مریض انسان کے بلغم میں