مضامین بشیر (جلد 2) — Page 975
۹۷۵ مضامین بشیر شیخ سعد اللہ لدھیانوی کی وفات حضرت محمد اسماعیل مرحوم کا ایک اہم مکتوب پشاور سے مجھے محترمی ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب ایم بی بی ایس نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم کا ایک خط بھجوایا ہے جو حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم نے مکرم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کے ایک استفسار کے جواب میں ۴ ستمبر ۱۹۴۰ء کو شیخ سعد اللہ لدھیانوی کی وفات کے باعث کے متعلق طبی نقطہ و نگاہ سے لکھا تھا۔حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم کا یہ خط جو مکرم منشی عبدالکریم صاحب کے واسطہ سے لکھا گیا مع استنفسا ر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب موصوف احباب کے فائدہ کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔سوال از مکرم ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب پشاور سوال :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۔۱۵ میں سعد اللہ لدھیانوی کے لئے عربی اشعار میں چند الفاظ تحریر فرمائے۔میری خاص توجہ شعر نمبر چار پر پڑی جس کا ترجمہ یہ ہے۔میں تجھے ناز اور تکبر کے ساتھ چلتا ہوا دیکھتا ہوں کیا تو طعنة النجلاء والے دن کو بھول گیا۔سعد اللہ نے بموجب مذکورہ بالا پیشگوئی کے نیما نک پلیگ سے وفات پائی۔حضرت اقدس نے بھی اسکی وفات کو نیا نگ پلیگ سے ہی موسوم کیا اور تحریر فرمایا ہے کہ اس بیماری میں چونکہ پھیپھڑا پھٹ جاتا ہے اس لئے طعنة النجلاء کے لفظی معنوں کے لحاظ سے بھی یہ پیشگوئی مکمل طور پر پوری ہوئی۔اب جبکہ ہم نیا نگ پلیگ جس میں کہ پھیپھڑا بجائے پھٹ جانے کے منجمد ہو جاتا ہے اور اس کے ہوا کے خلیئے کچھ بلغم کچھ رطوبت کچھ دیگر مادیات سے بھر جاتے ہیں اور سانس کے ذریعہ ہوا کا آنا جانا رک جاتا ہے جو کہ باعث موت اور مہلک ہوتا ہے تو اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ دراصل سعد اللہ کی موت پھیپھڑے کے پھٹ جانے سے واقعہ نہ ہوئی ہو گی بلکہ اس کے اندر رطوبات کے منجمد ہو جانے کی وجہ سے ہوئی ہوگی۔چونکہ یہ نتیجہ باعث تسلی نہیں ہے اس سلئے استدعا ہے کہ ڈاکٹری نقطہ نظر سے روشنی ڈالی جاوے اور اس بیماری کی پینتھا لو جی بھی مد نظر رہے۔خاکسار ڈاکٹر محمد معبد الرحمن عفی عنہ