مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 977 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 977

۹۷۷ مضامین بشیر بکثرت خون آتا ہے۔گویا فرشتوں نے اس کے پھیپھڑوں میں واقعہ نیزے مارے ہیں اور ان کو خوب زخمی کر دیا ہے۔باقی دو قسم کے طاعون کے بیمار خون نہیں تھوکتے۔اس لئے وہ صرف طعنہ یعنی طاعون سے یعنی الہی نیزہ کے زخم سے مرجاتے ہیں لیکن نمونیا پلیگ میں چونکہ خون کھنگار اور بلغم میں برابر آتا رہتا ہے اس لئے وہ صرف طعنہ نہیں بلکہ طعنة النجلا یعنی معمولی زخم نہیں بلکہ وسیع زخم اور خون چکاں زخم والا بیمار ہوتا ہے اور جب پھیپھڑوں سے خون جاری ہو جائے خواہ بیماری سے خواہ کسی اور وجہ سے وہ بہر حال پھیپھڑے کے سیل Cells اور اسکی باریک زخمی رگیں پھٹنے کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور یہ پھٹنا کسی ایک جگہ پھیپھڑے میں مثل چھری کے زخم کے نہیں ہوتا بلکہ ہر دو پھیپھڑے ہر جگہ سے متورم اور زخمی ہو کر خون دینے لگتے ہیں۔ایسے پھیپھڑوں کو زخمی کہنا اور وسیع طور پر زخمی کہنا عربی اردو دونوں زبانوں میں فصاحت کہلاتا ہے نہ کہ قابل اعتراض۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سعد اللہ کے لئے طعنة النجلا یعنی وسیع زخم نیزہ کا مانگا تھا۔خدا نے کہا اچھا طعنہ بھی ملیگا ( زخم نیزہ کا ) اور وہ طاعون کی شکل میں اور ایسا وسیع ہو گا کہ لوگ اور خود بیمار اس زخم کی شدت اور فراخی اور وسعت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور وہ جب تھو کے گا اور کھانسے گا تو خون تھو کے گا تا کہ دیگر دو قسم کی طاعونوں کی نسبت ایک امتیاز نمایاں موجود ہو۔زخمی ہو کر پھٹ جانا کے لفظ ایسے ہی ہیں جیسے کوئی کہے پھیپھڑے سخت متورم ہو کر ان کے cells کی دیوار میں پھٹ گئی ہیں اور ان میں سے خون بہہ رہا ہے۔پس کوئی بات بھی تو قابل اعتراض نہیں۔خدائی زخم اور خدائی نیزے ایسے لطیف ہوتے ہیں کہ باہر تو نشان نہیں ہوتا اور چھاتی کے اندر کے اعضاء چھلنی ہو جاتے ہیں۔اقرب الموارد جو عربی کی مشہور لغت ہے اس میں لکھا ہے۔طعنة نجلاء ایک محاورہ ہے جس کے معنے وسیع زخم کے ہیں۔پس طاعون کے کیڑوں نے سعد اللہ کے ہر دو پھیپھڑوں میں ہر جگہ زخم کر دیئے اور یہ لفظ بالکل پورے طور پر اس پر صادق آگیا کیونکہ وہ بیو با تک پلیگ اور septicawicplage سے نہیں مرا بلکہ ایسے طاعون سے مرا جس میں سارے جہان نے اس کے زخم کے خون کو دیکھ لیا اور اس طاعون کی قسم سے وہ ہلاک ہوا جس کا زخم سب سے وسیع اور والسلام فراخ تھا۔( ڈاکٹر میر محمد اسماعیل) مطبوعه الفضل ۱۴ر ستمبر ۹۵۰ء)