مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 951 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 951

۹۵۱ مضامین بشیر طرف رغبت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔پس قرآن نے کامیاب تبلیغ کے لئے دوسری شرط یہ مقرر فرمائی ہے کہ اس میں صرف عقلی دلیلوں سے ہی کام نہ لیا جائے بلکہ جذباتی باتوں کو بھی داخل کیا جائے جو مخاطب کے دل میں ایک طرف صداقت کی محبت اور اسے قبول کرنے کے فوائد اور دوسری طرف باطل کی نفرت اور صداقت کو ر ڈ کرنے کے نقصانات کا احساس پیدا کر نے والی ہوں۔حدیث میں متعد دصحابہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح وعظ فرماتے تھے کہ گویا اس وقت جنت دوزخ کھلے طور پر ہمارے سامنے آجاتے تھے اور ہم پورے یقین کے ساتھ محسوس کرنے لگ جاتے تھے کہ یہ رستہ باغ کا ہے اور یہ رستہ آگ کا۔پس کامیاب تبلیغ کے لئے دوسری ضروری شرط موعظہ حسنہ یعنی اپنی تبلیغ میں عقلی دلیلوں کے علاوہ جذباتی باتوں کو بھی داخل کرنا تا کہ سننے والا اچھی طرح سمجھ لے کہ جو بات اس کے سامنے پیش کی جارہی ہے، وہ صرف عقلی لحاظ سے ہی درست نہیں بلکہ اسے قبول کرنے میں اس کا اپنا ہی فائدہ اور اسے رڈ کرنے میں اس کا اپنا ہی نقصان ہے اور پھر تاریخی مثالوں اور تمثیلوں وغیرہ کے ذریعہ بھی اس پہلو کو بہت اچھی طرح واضح کیا جائے۔جیسا کہ قرآن شریف کا طریق ہے۔نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف نعوذ باللہ قصے بیان کر رہا ہے۔حالانکہ قرآن شریف قصوں کی کتاب نہیں بلکہ اس نے موعظہ حسنہ کے اصول پر اپنی عقلی دلیلوں کو جذباتی باتوں کا خمیر دینا ضروری خیال کیا ہے۔تیسر الفظ اس آیت میں مجادلہ ہے۔اس لفظ کے متعلق یا د رکھنا چاہئیے کہ گوروٹ ایک ہی ہے مگر حقیقتا عربی زبان میں جدل اور جادل کے معنے میں فرق ہے جدل کے معنے جھگڑا پیدا کرنے اور مخالفت ا میں نا واجب شدت اختیار کرنے کے ہیں لیکن اس کے مقابلہ پر جادل میں ( جس سے مجادلہ کا لفظ نکلا ہے ) ایک دوسرے کے مقابل پر بات کرنے اور اختلاف رائے کے طریق پر تبادلہ خیالات کرنے کے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے كَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا یعنی انسان سب مخلوق سے زیادہ جھگڑنے والا اور مخاصمت بر پا کرنے والا ہے اور اس کے مقابل پر دوسری جگہ حضرت ابراہیم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَعَلِيْمُ أَوَاهُ مُّنِيْبُ یعنی ابراہیم نے لوط کی قوم کے متعلق ہم سے سوال و جواب کے رنگ میں گویا بحث شروع کر دی۔بے شک ابراہیم بہت نرم دل اور رقت اور شفقت کے ساتھ جھکنے والا انسان تھا۔ان دونوں استعمالوں سے ظاہر ہے کہ جہاں جدل کے معنے بے جا رنگ میں مخاصمت کرنے اور جھگڑا بر پا کرنے کے ہیں وہاں مجادلہ کا لفظ عموماً محض سوال و جواب کے رنگ میں بحث کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔بے شک قرآن شریف میں بعض مثالیں بظاہر اس استعمال کے خلاف بھی نظر آتی ہیں مگر یہ مثالیں ایسی ہیں کہ مناسب غور اور