مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 950 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 950

مضامین بشیر اگر مجادلہ کا رنگ پیدا ہو جائے تو احسن دلائل کے ساتھ بحث کرو۔“ یہ آیت جیسا کہ اس کے الفاظ سے عیاں ہے بظاہر بہت مختصر ہے مگر اس کے اندر معانی کا ایک وسیع دریا مخفی ہے جس سے ہر شخص اپنی استعداد اور اپنے حالات کے مطابق عظیم الشان فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اس آیت کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اس کے چار مرکزی لفظوں کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔یہ الفاظ (۱) حکمت (۲) موعظہ حسنہ (۳) مجادلہ اور ( ۴ ) احسن کے الفاظ ہیں۔سب سے اول نمبر پر حکمت کا لفظ ہے جس کے معنے عربی زبان میں عقل اور دانائی کی بات کے ہیں جوحق و انصاف کے مطابق ہو اور اس میں بردباری اور وقار کا رنگ بھی پایا جائے اور چونکہ ایسی بات کے لئے مخاطب کے خیالات کا علم ہونا بھی ضروری ہے تا کہ مرض کے مطابق علاج تجویز کیا جا سکے اس لئے حکمت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ دوسرے فریق کے خیالات اور عقائد کے ازالہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہی جائے۔پس حکمت سے ایسی عقلی دلیلیں مراد ہوں گی ( اور اس کے اندر منقولی دلیلیں بھی شامل ہیں ) جو حق و صداقت کے مطابق دوسرے فریق کے خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان کی جائیں اور یہی کامیاب تبلیغ کی سب سے پہلی شرط ہے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اول تو وہ سمجھتے ہی نہیں کہ عقلی دلیل ہوتی کیا ہے بلکہ وہ ہر رطب و یابس کو عقلی دلیل خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر اگر وہ عقلی دلیل کے سمجھنے کا شعور رکھتے بھی ہوں تو اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ یہ دلیل صداقت کے مطابق بھی ہے یا نہیں بلکہ فریق مخالف کو چپ کرانے کے لئے جو جائز و نا جائز ذریعہ بھی خیال میں آئے اسے بلا دریغ اختیار کر لیتے ہیں۔پھر اگر وہ صداقت کا خیال رکھیں بھی تو کم از کم اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ فریق مخالف کن خیالات اور کن عقائد کا انسان ہے۔حالانکہ اس کے بغیر کوئی تبلیغ موثر اور کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ جب مرض کا ہی علم نہیں تو علاج کس طرح تجویز کیا جاسکتا ہے۔پس یاد رکھنا چاہئیے کہ کامیاب تبلیغ کی پہلی شرط حکمت ہے۔یعنی ( الف ) صحیح عقلی دلیل استعمال کرنا (ب) صداقت پر قائم رہنا اور (ج) دوسرے فریق کے عقائد اور خیالات کو مد نظر کرنا۔دوسرا لفظ اس قرآنی آیت میں موعظہ حسنہ ہے جس کے معنے عربی محاورہ میں اس کلام کے ہیں جس میں ایسے جذبات کا عصر پایا جائے جو تبشیر وانذار یعنی ترغیب و تر بیب کا رنگ رکھتا ہو یعنی اس میں بعض پہلو مخاطب کو محبت کے اظہار اور انعام و اکرام کے وعدہ کے ذریعہ کھینچنے والے ہوں اور بعض انکار اور نافرمانی کی صورت میں سزا اور عذاب کا منظر پیش کر کے خوف دلاتے ہوں۔ظاہر ہے کہ انسانی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ بسا اوقات محض خشک فلسفیانہ دلیلوں سے تسلی نہیں پاتی اور اگر تسلی بھی پا جائے تو اس کے اندر وہ زندگی کی حرکت پیدا نہیں ہوتی جو خدا کی طرف کھینچنے اور خدا کی