مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 888 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 888

مضامین بشیر ۸۸۸ رمضان کا آخری مبارک عشرہ دوست ان ایام میں دعاؤں اور نوافل کی طرف خاص توجہ دیں میری صحت اس وقت تک کسی لیے تحقیقی مضمون کی اجازت نہیں دیتی بلکہ اب بھی ہر روز ہلکا بخار ہو جاتا ہے لیکن کسی نیکی کے موقع کو ضائع کرنا بھی بڑی محرومی ہے۔اس لئے دوستوں کے فائدہ اور خود اپنے نفس کے تزکیہ کے لئے ذیل کا قلم برداشتہ نوٹ الفضل میں بھجوا رہا ہوں۔ایک دو روز میں رمضان کا آخری عشرہ شروع ہونے والا ہے۔جس طرح عبادت کے لئے رمضان کا مہینہ گو یا سال بھر کے بارہ مہینوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔اسی طرح رمضان کے مہینہ کا نچوڑ اس کا آخری عشرہ ہے اور پھر اس آخری عشرہ کا نچوڑ لیلۃ القدر ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق رمضان کے آخری عشرہ میں آیا کرتی ہے۔اس عشرہ کے متعلق مومنوں کی مادر مشفق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :- ۴۸ اذا دخل العشر شد مئزره و احيى لیله و ايقظ اهله د یعنی جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کو باندھ لیتے تھے اور اپنی راتوں کو ( جو گویا انسانی زندگی کا مردہ حصہ ہوتا ہے ) زندگی کی روح سے معمور کر دیتے تھے اور اپنے اہل وعیال کو بھی خدا کی عبادت کے لئے بیدار رکھتے تھے۔“ یہ کیسے شاندار الفاظ ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے امت کے آقا وسردار اور اپنے سرتاج کی عبادت کا نقشہ کھینچنے کے لئے استعمال فرمائے ہیں۔یقینا کوئی بہتر سے بہتر مصور بھی اس سے زیادہ دلکش تصویر نہیں تیار کر سکتا۔شد مئزرہ میں جہاں اس طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان مبارک ایام میں اپنی کمر کو کس کر گویا ایک مستعد اور جاں نثار خادم کی طرح اپنے آقا کے حضور استادہ کھڑے رہتے تھے وہاں ان الفاظ میں ( جن کے لفظی معنی ازار کے کسنے کے ہیں ) اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے ان آخری ایام میں اپنی بیویوں کے پاس جانے سے بھی کنارہ کشی