مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 889 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 889

۸۸۹ مضامین بشیر فرماتے تھے کیونکہ حقیقہ یہی روزہ کی باطنی روح ہے کہ مومن اپنے عمل سے ثابت کر دے کہ وہ خدا کے رستہ میں نہ صرف اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے بلکہ اسے اپنی نسل کی قربانی پیش کرنے میں بھی ہر گز کوئی تامل نہیں۔اور احیسی لیلہ کے الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ خدا کی سچی عبادت انسان کے اپنے نفس میں ہی زندگی کی روح نہیں پھونکتی بلکہ اردگرد کی مردہ چیزوں میں بھی زندگی کی زبر دست ہر پیدا کر دیتی ہے۔یہ وہی لطیف نکتہ ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں اشارہ فرمایا ہے کہ :- پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا یعنی پہلے ہم قرآن شریف کو صرف اپنی ذات میں ایک زندہ چیز خیال کرتے تھے جس طرح کہ موسے کا عصا بظاہر بے جان ہونے کے باوجود ایک زندہ چیز تھا لیکن جب سوچا تو نظر آیا کہ وہ صرف اپنی ذات میں ہی زندہ نہیں بلکہ حقیقہ زندگی بخش بھی ہے کیونکہ جو چیز بھی اس کے ساتھ چھوتی ہے وہ زندہ ہو جاتی ہے۔اور لیله (اپنی رات) کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جب کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی را تیں ویسے ہی ہمیشہ عبادت کے ذریعہ زندہ رہتی تھیں تو پھر اس شاندار زندگی کا کیا کہنا ہے جو ایک پہلے سے زندہ چیز کو آپ کی مخصوص عبادت سے حاصل ہو جاتی تھی۔بالآخر ايقظ أهله کے لطیف الفاظ بھی ایک خاص حقیقت کے حامل ہیں۔حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ازدواج عام ایام میں بھی تہجد کی نماز کے لئے اٹھا کرتی تھیں تو پھر آخری عشرہ کے تعلق میں خاص طور پر ایقظ اھلہ کے الفاظ استعمال کرنے میں اس کے سوا کیا اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ راتیں ازدواج مطہرات کی گویا گلی طور پر جاگتے ہی کٹتی تھیں۔پس جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل و عیال کا یہ پاک نمونہ تھا تو دوسرے لوگوں کا بدرجہ اولیٰ فرض ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ کو عموماً اور رمضان کے آخری عشرہ کو خصوصاً خدا کی عبادت کے لئے وقف کر دیں اور آخری عشرہ میں اعتکاف کی عبادت مقرر کرنا بھی دراصل اسی لطیف تحریک کی غرض سے ہے کیونکہ جیسا کہ ظاہر ہے اعتکاف ایک قسم کی عارضی اور وقتی رہبانیت ہے اور گو خدا کی حکمت ازلی نے مسلمانوں کو دائمی رہبانیت کی اجازت نہیں دی لیکن اعتکاف کی عبادت سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارا خدا کم از کم یہ ضرور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں چند ایام ایسے بھی آئیں کہ وہ گویا دنیا کے دھندوں سے کلیڈ کٹ کر صرف خدا کے لئے زندگی گزار سکیں۔