مضامین بشیر (جلد 2) — Page 75
۷۵ مضامین بشیر خالصہ ! ہوشیار باش سکھ صاحبان سے ایک دردمندانہ اپیل سیاسی حالات بھی عجیب طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ابھی ۱۹۴۶ء کے اوائل کی بات ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہو رہے تھے کہ سکھ قوم اس بات پر ہندؤوں سے سخت بگڑی ہوئی تھی کہ وہ کانگرس کے نظام کے ماتحت ان کی پنتھک حیثیت اور پنتھک وقار کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اور ان کی مستقل قومی حیثیت کو مٹا کر اپنے اندر جذب کر لینے کے درپے ہیں۔چنانچہ اسی زمانہ کے بعد کا واقعہ ہے کہ سکھوں کے مشہور لیڈر ماسٹر تارا سنگھ صاحب نے اپنے ”سنت سپاہی“ نامی گورمکھی رسالہ کے اگست ۱۹۴۶ء کے نمبر میں ”ہندو مسلماناں نال ساڈے سمبدھ کے مضمون کی ذیل میں لکھا تھا کہ :- ”مذہبی اصولوں کے لحاظ سے سکھ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں۔مگر تہذیب اور برادری کے تعلقات ہندوؤں سے زیادہ ہیں۔۔۔ہندوؤں میں ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں نگل جانا چاہتا ہے۔۔۔مسلمانوں سے ہمارے تعلقات بھی کم ہیں اور خطرہ بھی کم ہے۔۔۔میں مسلمانوں سے سمجھوتہ اور بہتر تعلقات پیدا کرنے کے حق میں ہوں۔۔۔ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو ڈھنگ یا استادی سے سکھوں کو نگل جانا چاہتے ہیں۔۔۔ہندوؤں کا پچھلا وطیرہ اور تاریخ ہمیں پورا بھروسہ نہیں ہونے دیتی اور ہمیں خبر دار ہی رہنا چاہئے۔۔۔یقین رکھو کہ کانگرس اور ہندوؤں نے ہماری علیحدہ پولیٹیکل ہستی کو مٹانے کی کوشش کرنی ہے۔پچھلے انتخابات میں یہ کوشش بہت زور سے کی گئی تھی لیکن ہم بچ گئے۔اگر آج پنجاب اسمبلی کے سارے سکھ ممبر کا نگرس ٹکٹ پر ہوتے 66 تو ہم ختم تھے۔“ یہ الفاظ جن کے لکھے جانے پر ابھی بمشکل نو ماہ کا عرصہ گزرا ہے۔ایک ایسے سکھ لیڈر کے قلم سے نکلے ہیں جو ہندو سے سکھ بنا ہے اور ہم ان الفاظ پر قیاس کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت قدیم سکھوں اور خصوصا جاٹ سکھوں میں ہندوؤں کے متعلق کیا خیالات موجزن ہوں گے۔مگر آج