مضامین بشیر (جلد 2) — Page 76
مضامین بشیر ۷۶ یہی پنجاب کا نامور خالصہ ہندوؤں کی آغوش میں راحت محسوس کر رہا ہے۔مجھے تسلیم کرنا چاہئے کہ اس غیر معمولی تبدیلی کی ذمہ داری کسی حد تک مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔جنہوں نے سکھوں کو اپنے ساتھ ملانے میں پوری توجہ اور جد و جہد سے کام نہیں لیا۔مگر اس انقلاب کا اصل سہرا ہند وسیاست کے سر ہے ، جس نے اتنے قلیل عرصہ میں اپنی گہری تدبیر کے ذریعہ سکھ کو گو یا بالکل اپنا بنا لیا ہے لیکن جس اتحاد کی بنیاد محض دوسروں کی نفرت و عداوت کے جذبہ پر ہو، وہ زیادہ دیر پا نہیں ہوا کرتا اور سمجھدار سکھوں کی آنکھیں آہستہ آہستہ اس تلخ حقیقت کے دیکھنے کے لئے کھل رہی ہیں کہ ان کے لئے پنجاب میں ہندوؤں کی سانجھ سو فیصدی خسارہ کا سودا ہے۔” پنجاب کی تقسیم “یا ” پنجاب کا بٹوارہ “ ایک ایسا نعرہ ہے جس کے وقتی طلسم میں ہند و سیاست نے سکھ کو مخمور کر رکھا ہے مگر کیا کبھی کسی دانشمند سکھ نے ٹھنڈے دل سے اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ پنجاب کی مزعومہ تقسیم کے نتیجہ میں سکھ کیا لے رہا ہے اور کیا دے رہا ہے۔یہ دو ٹھوس حقیقتیں بچے بچے کے علم میں ہیں کہ (۱) پنجاب میں سکھ صرف ۱۳ فیصدی ہے اور (۲) پنجاب کے ۲۹ ضلعوں میں سے کوئی ایک ضلع بھی ایسا نہیں ہے جس میں سکھوں کی اکثریت ہو۔کیا اس روشن صداقت کے ہوتے ہوئے پنجاب کی کوئی تقسیم سکھ مفاد کو فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ جو قوم ہر لحاظ سے اور ملک کے ہر حصہ میں اقلیت ہے وہ ملک کے بٹنے سے بہر حال مزید کمزوری کی طرف جائے گی اور ملک کی ہر تقسیم خواہ وہ کسی اصول پر ہو اس کی طاقت کو کم کرنے والی ہوگی نہ کہ بڑھانے والی۔یہ کہنا کہ فلاں حصہ کے الگ ہو جانے سے اس حصہ میں سکھوں کی آبادی کا تناسب بڑھ جائے گا۔ایک خطر ناک سیاسی دھوکہ ہے۔کیونکہ بہر صورت پنجاب کے دونوں حصوں میں سکھ ایک کمزور اقلیت رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں ایک حصہ کے اندر تناسب آبادی میں خفیف سی زیادتی کی وجہ سے اپنی مجموعی طاقت کو بانٹ لینا خود کشی سے کم نہیں۔برطانوی پنجاب میں سکھوں کی موجودہ آبادی ساڑھے سینتیس لاکھ ہے اور ان کی آبادی کا تناسب تیرہ فیصدی ہے۔اب موجودہ تجویز کے مطابق پنجاب اس طرح بانٹا جا رہا ہے کہ ایک حصہ میں پونے سترہ لاکھ چلا جاتا ہے اور دوسرے میں پونے اکیس لاکھ اور جس حصہ میں پونے اکیس لاکھ چلا جاتا ہے وہاں ان کی آبادی قریباً اٹھارہ فیصدی ہو جاتی ہے اور دوسرے حصہ میں قریباً دس فیصدی رہ جاتی ہے تو کیا اس صورت میں دنیا کا کوئی سیاستدان یہ خیال کر سکتا ہے کہ ایسی تقسیم سکھوں کے لئے مفید ہوگی۔جہاں وہ تیرہ فیصدی سے قریباً اٹھارہ فیصدی ہو جائیں گے۔وہاں بھی بہر حال وہ ایک کمزور اقلیت رہیں گے اور ان کے لئے تناسب آبادی کا خفیف فرق عملاً بالکل بے نتیجہ اور بے سود ہو گا مگر دوسری طرف یہ تقسیم ان کی مجموعی طاقت کو دوحصوں میں بانٹ کر ( یعنی ۳۷ کی بجائے ۱۶ اور ۲۱ کے دو حصے کر کے ) ان کی قومی طاقت کو سخت کمزور کر دے گی۔یہ ایک