مضامین بشیر (جلد 2) — Page 664
مضامین بشیر ۶۶۴ نظر سے مطالعہ کریں۔اس عبارت کا ایک ایک لفظ بتا رہا ہے کہ جناب مولوی محمد علی صاحب کو نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بعض باتوں میں اختلاف ہے بلکہ وہ اس اختلاف کو اپنے لئے باعث فخر خیال کرتے ہیں۔ناظرین غور کریں کہ اوپر کی عبارت کا اس کے سوا کوئی اور مطلب نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی معقول انسان اس کے سوا کوئی اور مطلب لے سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو خدا کی طرف سے اس زمانہ کے لئے حکم و عدل ہو کر آئے تھے قرآن شریف کی کسی آیت سے ایک استدلال کریں اور کوئی دوسرا شخص اسی آیت سے کوئی اور استدلال کرے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے استدلال سے مختلف ہی نہیں بلکہ اس کے صریح خلاف اور اس سے متضاد ہو تو جناب مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک اس صورت میں بھی یہ بالکل جائز اور ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ قرآنی استند لال غلط ہو اور اس کے مقابل پر دوسرے شخص کا استدلال درست اور صحیح ہو تو اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تیرہ سو سال کے انتظار کے بعد آنے والے ماموریز دانی اور مصلح رحمانی کے ارشادات کا یہی مقام ہے کہ اس کے قرآنی استدلالات عام لوگوں کے استدلالات کے مقابلہ پر بھی غلط ہو سکتے ہیں تو پھر ایسے شخص کا حکم و عدل ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور ایسے شخص کو مبعوث کر کے خدائے حکیم نے کس اصلاح کا ارادہ فرمایا ہے؟ یہ بالکل درست ہے کہ قرآنی علوم کے خزانے لامحدود ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے بلکہ آپ کے آنے سے ان کا دروازہ اور بھی زیادہ وسیع ہو گیا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ان علمی انکشافات کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی شخص اُٹھ کر ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی کا دم بھرے اور دوسری طرف اس بات کا مدعی ہو کہ حضرت مسیح موعود نے فلاں قرآنی آیت سے جو استدلال کیا ہے وہ غلط اور باطل ہے اور اس کے مقابل پر میرا استدلال درست اور صحیح ہے۔اگر ایسا ہو تو مذہبی دنیا سے امان اٹھ جائے اور حضرت مسیح موعود کی بعثت ایک عبث فعل سے زیادہ حقیقت نہ رکھے۔پس آپ کے بعد بھی قرآنی علوم کے خزانوں کا منہ کھلا رہے گا یقیناً درست ہے مگر اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایک استدلال جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں کیا وہ کوئی بعد میں آنے والا شخص خدا سے توفیق پا کر کر لے یا ایک نکتہ معرفت جو حضرت مسیح موعود نے ظاہر نہیں فرمایا وہ کسی بعد میں آنے والے کے ذریعے ظاہر ہو جائے وغیر ذالک۔یہ رستہ قیامت تک کھلا ہے اور حضرت مسیح موعود کی بعثت نے اس رستہ کو ہرگز بند نہیں کیا بلکہ اور بھی زیادہ کھول دیا ہے اور یہی اس قرآنی آیت کا منشاء ہے کہ وانْ مِنْ شَيْ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَ انَّهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ یعنی۔