مضامین بشیر (جلد 2) — Page 665
مضامین بشیر ہمارے پاس ہر چیز کے لا تعدا د خزا نے جمع ہیں مگر ہم انہیں آہستہ آہستہ ایک خاص اندازے کے مطابق نازل کرتے ہیں۔پس لا ریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نئے معارف کا انکشاف ہوسکتا ہے اور ضرور ہوسکتا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی شخص اٹھ کر حضرت مسیح موعود کے استدلال کو غلط قرار دے اور اس کے مقابل پر اپنے استدلال کو صحیح گردانے۔یہ تباہی اور ہلاکت کی راہ ہے جس سے ہر سچے مومن کو پر ہیز کرنا چاہئے۔کیا جناب مولوی محمد علی صاحب پر حقیقہ نئے علوم اور فی الواقع نئے معارف کا دروازہ بند ہو چکا ہے کہ وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اختلاف کر کے اور آپ کے استدلال کو نعوذ باللہ غلط قرار دے کر ہی مجتہد بننا چاہتے ہیں؟ مولانا ! اگر سچا مجہتد بننا ہے تو نئے استدلال لائیے اور قرآن کی گہرائیوں میں غوطہ لگا کرا چھوتے معارف دنیا کے سامنے پیش کیجئے جس کے لئے آج دنیا کے سینے پیاس کی تپش میں جل رہے ہیں۔مگر خدارا! اس آگ کے کھیل سے نہ کھیلئے کہ حضرت مسیح موعود نے فلاں آیت سے جو استدلال کیا تھا ، وہ غلط تھا اور میں اس کے متعلق صحیح استدلال پیش کرتا ہوں۔معاف کیجئے آپ کے اس دعوی سے تو شبہ ہوتا ہے کہ شائد آپ کی ساری تفسیر میں صرف مسیح ناصری کے باپ ہونے کا نکتہ ہی، ایک ایسا عجیب و غریب نکتہ ہے جس میں آپ نے بزعم خود دنیا کے سامنے ایک نیا خیال اور ایک اچھوتہ نظریہ پیش کیا ہے (گو حقیقتا یہ بھی کوئی نیا خیال نہیں کیونکہ اوائل میں خود حضرت خلیفہ اول کا بھی یہی خیال تھا جو آپ نے بعد میں حضرت مسیح موعود کے عقیدہ کی وجہ سے ترک کر دیا ) اور یہ کہ اس کے سوا کوئی اور نکتہ ایسا نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ تفسیر سے باہر جا کر آپ نے لکھا ہو۔یقیناً یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے جو آپ دنیا کے سامنے پیش فرما رہے ہیں۔پھر محترم مولوی صاحب ! کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم ہونے کا منصب محض قیاسی یا حدیثوں کے اقوال پر مبنی نہیں ہے بلکہ خدائے علیم وقد مر کی صریح وحی میں بیان ہو چکا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وو 66 ” مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔“ اور دنیا جانتی ہے کہ حکم وہ ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے تمام اختلافی امور میں فیصلہ صادر کرنے کا منصب رکھتا ہو اور اس کا فیصلہ واجب العمل بھی ہو اور مسیح موعود کے متعلق تو آنحضرت ع خصوصیت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ وہ صرف حکم ہی نہیں ہوگا بلکہ عدل بھی ہوگا۔یعنی اس کا ہر فیصلہ