مضامین بشیر (جلد 2) — Page 663
۶۶۳ مضامین بشیر جناب مولوی محمد علی صاحب کا ایک تازہ خطبہ حضرت مسیح موعود سے مسائل میں اختلاف کا جواز حضرت مسیح ناصری کی پیدائش کا مسئلہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اپنے خطبہ جمعہ بمقام کراچی مورخه ۱۹ اگست ۱۹۴۹ء میں اپنے ترجمہ وتفسیر قرآن کریم کی نظر ثانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یہ بالکل صحیح امر ہے کہ ہم نے حضرت مرزا صاحب کو مجدد بھی مانا ،مہدی اور مسیح بھی مانا مگر ہم نے انکو اپنا پیر کبھی نہیں مانا۔ہم تو ان کے ساتھ بھی اختلاف کر لیتے تھے۔نواب صاحب منگرول کو اس سلسلہ کے ساتھ انس اور محبت تھی۔بہت حد تک وہ تحریک احمدیت کو صحیح سمجھتے تھے۔ہم ان کے پاس تھے تو ایک مولوی نے ان کو اکسایا کہ یہ لوگ جن کی آپ اس قدر عزت و تکریم کرتے ہیں اور جنہوں نے حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود ما نا ہوا ہے وہ تو اپنے مسیح موعود سے بھی اختلاف کر لیتے ہیں۔کیونکہ وہ یعنی حضرت مسیح موعود تو حضرت مسیح ناصری کا باپ نہیں مانتے اور یہ یعنی مولوی محمد علی صاحب مسیح کا باپ مانتے ہیں۔نواب صاحب نے یہی سوال مجھ پر کیا تو میں نے جواب میں کہا کہ اسی سے اندازہ کر لیجئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کو آنکھیں بند کر کے نہیں مانا سوچ سمجھ کر مانا ہے۔ہم نے اگر حضرت مرزا صاحب کو چودھویں صدی کا مجدد مانا ہے تو کھلی آنکھوں سے مانا ہے اور یہ آنکھیں اب بھی کھلی ہیں حضرت مسیح موعود نے بھی سب چیزوں پر قرآن کریم کو مقدم قرار دیا ہے۔اس لئے اگر قرآن کی صراحت سے ایک بات نظر آ جائے تو ہم حضرت مسیح موعود سے بھی فروعی باتوں میں اختلاف کر لینا جائز سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس کے لئے قومی وجوہ ہوں۔2466 اوپر کی عبارت کو جو جناب مولوی محمد علی صاحب کے تازہ خطبہ سے نقل کی گئی ہے، دوست غور کی