مضامین بشیر (جلد 2) — Page 49
۴۹ مضامین بشیر کیا مسلمانوں کے لئے صرف اسلامی حکومت کی اطاعت ہی ضروری ہے قرآنی آیت اولی الامر منکم کی تشریح آج کل جہاں اور بہت سے نئے خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔وہاں مسلمانوں کے ایک حصہ میں ایک خیال یہ بھی زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے ( اور ایک لحاظ سے تو یہ خیال کافی پرانا ہے ) کہ اسلامی تعلیم کی رو سے مسلمانوں کے لئے صرف مسلمان حاکم کی اطاعت ہی ضروری ہے اور کسی دوسرے حاکم یا فرمانروا کی اطاعت ضروری نہیں۔اس خیال کی تائید میں قرآنی آیت پیش کی جاتی ہے کہ : - يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ۔د یعنی اے مسلمانو! تم خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کا بھی حکم مانو اور ان 66 حاکموں کا بھی جو تمھیں سے ہوں۔“ اس آیت میں جو اُولِى الْأَمْرِ مِنْكُم ( یعنی وہ حاکم جو تمھیں سے ہیں ) کے الفاظ وارد ہیں ان سے آج کل کے روشن خیال مسلمانوں کا ایک طبقہ جو عیسائی اقتدار سے تنگ آکر آزادی کی جد و جہد میں مصروف عمل ہے، یہ استدلال کرتا ہے کہ ان الفاظ میں صرف ان حاکموں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے جو مسلمانوں میں سے ہوں یعنی بالفاظ دیگر ہم پر صرف مسلمان حاکموں کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے دوسروں کی نہیں۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ منکم کا لفظ ( یعنی جو تمھیں سے ہوں ) صاف بتا رہا ہے کہ اس جگہ صرف مسلمان اُولی الامر مراد ہیں نہ کہ وہ کا فرو جابر فرمانروا جو مسلمانوں کی گردنوں پر ہر جائز و نا جائز طریق سے حکومت کا جوار کھ کر انہیں اپنی غلامی کی زنجیروں میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔اس اعتراض کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ بیشک آزادی ایک نہائت قیمتی چیز ہے اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر جائز طریق پر اپنی اور اپنے بھائیوں کی آزادی کے لئے کوشاں رہے اور یہ بھی درست ہے کہ اسلام کی کامل ترقی اور پابحالی کے لئے آزادی کا ماحول ایک بہت ضروری اور لابدی