مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 50

مضامین بشیر چیز ہے۔مگر آزادی کی ہوس میں قرآنی آیات کو ان کے صحیح معانی سے علیحدہ کر کے ایک خلاف تعلیم اسلام جدت کا دروازہ کھولنا کسی طرح جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں اسلام آزادی کو ایک نہائت قیمتی چیز قرار دیتا ہے۔بلکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو قو می غلامی تو دور کی بات ہے انفرادی غلامی کو بھی ایک قابل نفرت اور قابل استیصال چیز سمجھتا ہے۔وہاں وہ ساتھ ہی یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی وقت تمہیں کسی غیر اسلامی حکومت کے ماتحت رہنا پڑے تو تم بغاوت اور بدامنی کا طریق اختیار نہ کرو۔بلکہ وقت کی حکومت کے فرمانبردار رہو اور ساتھ ساتھ جائز اور پر امن طریق پر اپنی آزادی کے لئے بھی کوشش کرتے رہو۔چنانچہ علاوہ قولی تعلیم کے قرآن شریف اور حدیث ایسے تاریخی واقعات سے بھرے پڑے ہیں کہ جہاں خدا کے انبیاء ومرسلین نے غیر اسلامی حکومت کے ماتحت زندگی گزاری ہے اور ہمیشہ بغاوت کے طریق سے مجتنب رہتے ہوئے حکومت وقت کے ساتھ تعاون اور اطاعت کا طریق اختیار کیا ہے۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق قرآن شریف میں مذکور ہے کہ وہ فراعنہ مصر کی حکومت کے ماتحت تھے اور صرف ماتحت ہی نہ تھے بلکہ انہوں نے اس حکومت میں وزارت مال کا عہدہ بھی قبول کیا ہوا تھا۔لیکن بایں ہمہ انہیں قانون رائج الوقت کا اس قد راحترام تھا کہ با وجود اس زبر دست خواہش کے کہ وہ اپنے بھائی کو اپنے ساتھ رکھ سکیں ، وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے اس راستہ سے باز رہے حتی کہ خود خدا نے اپنی کسی مخفی تقدیر کے ذریعہ ان کے لئے ایک جائز راستہ کھول دیا۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے :- كَذلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ د یعنی ہم نے خود یوسف کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک تدبیر کی۔کیونکہ یہ بات یوسف کے لئے جائز نہیں تھی کہ وہ رائج الوقت شاہی قانون کے خلاف اپنے بھائی کو یونہی زبر دستی روک لیتا۔پس اللہ نے خود اپنی مشیت سے اس کے لئے رستہ کھولا۔“ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام برسوں فرعون کی حکومت ہاں انتہائی درجہ ظالمانہ اور جابرانہ حکومت کے ماتحت رہے مگر کبھی اس کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند نہیں کیا بلکہ جب ایک دفعہ ان سے نادانستہ طور پر قانون شکنی ہوگئی تو اس پر انہوں نے قانون کی زد سے بچنے کے لئے خفیہ طور پر ملک چھوڑ دیا۔اور وَلَهُمْ عَلَى ذَنْب کا کہہ کر ( یعنی میں حکومت مصر کے مطابق ایک جرم کا ارتکاب کر چکا ہوں ) اس بات کو تسلیم کیا کہ حکومت کا میرے خلاف ایک الزام عائد ہوتا ہے۔اور جب فرعون کے مظالم