مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 495 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 495

دوس دا ۴۹۵ مضامین بشیر ست نے نقل کیا ہے اس قرآنی آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُم وَ اِيَّاكُمْ اور ظاہر ہے کہ یہ مضمون قتل اولاد اور برتھ کنٹرول کے مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ تعدد ازدواج کے مسئلہ سے۔بے شک ایک سے زیادہ شادی کرنے والے شخص کو عام حالات میں اپنی مالی حالت کو دیکھ کر قدم اٹھانا چاہیئے کیونکہ زیادہ شادیاں کرانا فرائض میں داخل نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے حالات پر منحصر ہے لیکن جو شخص شادی کرنے کے بعد غربت کے خوف کی وجہ سے برتھ کنٹرول کا طریق اختیار کرتا اور اپنی ہونے والی اولادکو گو یا خودا اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے ، وہ ضرور قرآنی حکم کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اور ان دونوں باتوں میں بھاری فرق ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے دوست نے کثرتِ اولاد اور تعدد ازدواج کے دو مختلف مضمونوں کو بلا وجہ خلط کر کے ایک اعتراض کھڑا کر دیا ہے اور میرے منہ میں ایسی بات ڈالنے کی کوشش کی ہے جو میں نے ہرگز نہیں کہی۔ایک دوسرے دوست نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جب موجودہ نسل ہی کی تربیت پوری طرح تسلی بخش نہیں ہے اور کئی قسم کی خامیاں پائی جاتی ہیں اور بعض اچھے اچھے خاندانوں کے بچوں کا نمونہ بھی اچھا نظر نہیں آتا تو پھر کثرت اولاد پر زور دینا کوئی مفید نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔مگر یہ اعتراض بھی بالکل بودا اور بے بنیاد ہے اور قوموں کی ترقی کے صحیح فلسفہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ قومی ترقی کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک تعداد کی ترقی اور دوسرے علم و عمل کی ترقی۔گویا انگریزی محاورہ کے مطابق ایک کو انٹیٹی (Quantity ) کی ترقی اور دوسرے کو کوالیٹی (Quality) کی ترقی کہہ سکتے ہیں۔اور ہمارے علیم و حکیم خدا نے دنیا کا دینی نظام اس رنگ میں قائم کیا ہے۔( بلکہ حق یہ ہے کہ دنیوی نظام بھی بڑی حد تک اسی اصول پر قائم ہے ) کہ یہ دونوں قسم کے کام ایک ہی وقت میں جاری رہنے چاہئیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ جہاں بار بار اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہے وہاں اسی شد و مد اور تاکید کے ساتھ تبلیغ کے ذریعہ تعداد کی ترقی کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو اصول تبلیغ کے متعلق چسپاں ہوتا ہے وہی کثرت اولاد کے متعلق بھی چسپاں ہونا چاہیئے کیونکہ دونوں کی غرض وغایت اور دونوں کا مال ایک ہی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت اور اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ تبلیغ اور تکثیر نسل دونوں کی طرف یکساں توجہ دی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی حصر نہیں دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں آیا کہ جس نے تبلیغی مہم کی وجہ سے تربیت کے پہلو کو کمزور ہونے دیا ہو یا تربیت کے خیال سے تبلیغی مہم کو معلق کر دیا ہو۔دراصل یہ دو کام دو پہلو بہ پہلو چلنے والی نہروں کا رنگ رکھتے ہیں جو ایک ہی وقت میں