مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 494 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 494

۴۹۴ مضامین بشیر نے خود تشریح فرما دی تھی کہ میرا یہ منشاء نہیں۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ قطعی فیصلہ موجود ہے کہ اسلام میں تعدد ازدواج کا مسئلہ حکم کے طور پر نہیں ہے بلکہ محض اجازت کے طور پر ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : - "خدا کی شریعت ہر ایک قسم کا علاج اپنے اندر رکھتی ہے۔پس اگر اسلام میں تعدد نکاح کا مسئلہ نہ ہوتا تو ایسی صورتیں جو مردوں کے لئے نکاح ثانی کے لئے پیش آجاتی ہیں اس شریعت میں ان کا کوئی علاج نہ ہوتا۔خدا کی شریعت دوا فروش کی دکان کی مانند ہے۔پس اگر دوکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوا مل سکتی ہے تو وہ دوکان چل نہیں سکتی۔اگر چہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا ہے۔6 اور دوسری جگہ اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ : - ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تو تعددازدواج فرض واجب نہیں کیا ہے۔خدا ،، کے حکم کی رُو سے صرف جائز ہے۔اوپر کے دونوں حوالوں سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک اسلام میں تعدد ازدواج کو فرض واجب قرار نہیں دیا گیا بلکہ صرف جائز رکھا گیا ہے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کسی شخص کو ذاتی یا خاندانی یا قومی مصالح کے ماتحت تعدد ازدواج کی ضرورت محسوس ہو تو وہ اس رستہ کو اختیار کر سکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو تعدد ازدواج یقیناً ایک مستحسن فعل سمجھا جائے گا۔لیکن اس سے آگے نکل کر تعدد ازدواج کو گویا ایک حکم قرار دینا یا اسے اصل قاعدہ قرار دے کر ایک شادی کو استثناء سمجھنا خواہ نخواہ کی زبردستی ہے، جس کی تائید میں اسلام اور احمدیت کا کوئی حکم پیش نہیں کیا جاسکتا۔انہی صاحب کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جب تعدد ازدواج کے تعلق میں عدل کر سکنے کی طاقت میں اپنی مالی حالت کا دیکھنا بھی شامل ہے تو پھر میرے مضمون کے اس فقرہ کا کیا مطلب ہے کہ "جو شخص کثرت اولاد کی وجہ سے رزق کی تنگی محسوس کرتا ہے اس کا یہ تجر بہ جھوٹا ہے اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیئے کہ قطع نظر اس کے کہ دراصل ہمارے اس دوست کے یہ دونوں اعتراض آپس میں ٹکراتے ہیں یعنی پہلے اعتراض میں تو وہ کثرت ازدواج کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسرے اعتراض میں اسی مسئلہ کے رستہ میں گویا ایک روک پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے ان دوست نے میرے اس فقرے کا منشاء بھی نہیں سمجھا۔میں نے یہ فقرہ جو ہمارے