مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 496 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 496

مضامین بشیر ۴۹۶ جاری رہنے چاہئیں کیونکہ قومی زندگی کے لئے دونوں یکساں ضروری ہیں۔ویسے بھی عقلاً دیکھا جائے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ملک وقوم کے لئے کونسا وجود زیادہ بہتر ثابت ہونے والا ہے یعنی آیا وہ لوگ قومی ترقی کے لئے زیادہ مفید ثابت ہونے والے ہیں جو اس وقت قوم کا حصہ ہیں یا کہ وہ لوگ زیادہ مفید ثابت ہونے والے ہیں جو تبلیغ یا نسل کی ترقی کے ذریعہ آئندہ چل کر قوم کا حصہ بنیں گے۔ہو سکتا ہے کہ ہم تبلیغ کی ستی کی وجہ سے یا خود اپنے ہاتھ سے اپنی نسل کو ضائع کر کے کسی ایسے پاک جو ہر کو اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھیں جس کا وجود جماعت یا قوم یا ملک کے لئے غیر معمولی ترقی کا باعث بن سکتا ہو۔روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کے اسلام لانے سے قبل دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے خدا تو ان دو عمروں میں سے ( یعنی ایک حضرت عمر بن خطاب اور دوسرے عمر بن ھشام ( یعنی ابو جہل جو قریش میں ابوالحکم کہلاتا تھا ) کسی ایک کو مجھے عطا کر دے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ کی باریک بین نظر اس بات کو محسوس کرتی تھی کہ یہ دونوں شخص اپنے فطری قومی اور ذہنی استعداد کی وجہ سے کام کی غیر معمولی قابلیت رکھتے ہیں۔سوخدائے حکیم نے آپ کی اس دعا کے نتیجہ میں حضرت عمرؓ کو اسلام کی توفیق دی اور ابو جہل اپنی سرکشی اور کفر میں ترقی کر کے جہنم کے رستہ پر پڑ گیا۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات پر یہ الفاظ فرمائے کہ لَوْعَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبيّاً د یعنی اگر میرا یہ بچہ ابراہیم زندہ رہتا تو اس کی فطری استعداد ایسی تھی کہ خدا کے فضل سے وہ نبوت کے مقام کو پہنچ جاتا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تبلیغ اور کثرت اولا د دونوں قومی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور نہ صرف تعداد کو بڑھانے کا موجب بن سکتے ہیں بلکہ ان کے ذریعہ ایسے خاص الخاص وجودوں کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جو عملی اور رد عملی تربیت کے لحاظ سے بھی قوم وملت کے نام کو چار چاند لگانے والے بن جائیں گے۔میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قوم کے نوجوانوں کی تربیت کی طرف سے غفلت برتی جائے۔اگر کوئی نقص ہے تو خواہ وہ کسی میدان سے تعلق رکھتا ہو اور خواہ وہ قوم کے کسی حصہ میں پایا جاتا ہو وہ بہر حال دور ہونا چاہئے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کی طرف پوری پوری توجہ دیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ تربیت کے خیال کی وجہ سے تبلیغ اور تکثیر نسل کے ذریعہ کو نظر انداز کر دیا جائے۔حق یہ ہے کہ ان دونوں باتوں کا یعنی ایک طرف تعداد کی ترقی کا اور دوسری طرف تربیت اور عملی اصلاح کا ایک دوسرے کے ساتھ اتنا گہرا تعلق اور رابطہ ہے کہ باوجود اس کے کہ بظاہر یہ دوا لگ