مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 379 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 379

مضامین بشیر کارخانہ کے بدلہ میں پاکستان میں کوئی جائداد یا کارخانہ وغیرہ مل گیا ہے۔تو دراصل انصافاً ان کا سابقہ رہن بھی اس نئی جائیداد یا کارخانہ کی طرف منتقل شدہ سمجھا جائے گا۔اور اس کی آمد میں روپیہ دینے والوں کا بھی حصہ شمار ہوگا۔اس کے علاوہ بعض عزیز اور دوست ایسے ہیں کہ بے شک قادیان وغیرہ میں تو ان کی جائداد ضائع گئی ہے۔مگر ان کی کچھ جائداد پہلے سے پاکستان میں بھی موجود تھی ایسے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان والی جائداد میں سے اپنے قرض خواہوں کا مطالبہ ادا کریں۔الغرض جس جہت سے بھی دیکھا جائے اکثر مقروض صاحبان بھاری ذمہ داری کے نیچے ہیں۔اور خصوصاً ایسے قرض خواہوں کے متعلق تو ان کی ذمہ داری (اگر وہ اسے ادا نہ کریں )۔میرے خیال میں کبیرہ گناہ تک پہنچ جاتی ہے جو اپنی ساری پونچھی ان مقروض دوستوں کے حوالہ کر بیٹھے تھے اور اب مقروض دوست تو مزے سے بیٹھے کھا رہے ہیں اور قرض خواہ بھو کے مر رہے ہیں۔۔بے شک اسلام نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر کوئی مقروض شخص واقعی مجبور اور معذور ہو جائے اور اس کے مقابل پر قارض نسبتاً خوشحال ہو تو مقروض شخص کو حالات کی بہتری تک مہلت ملنی چاہئے اور کوئی عقل مند اس اصول کی معقولیت پر اعتراض نہیں کر سکتا۔مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مقروض تو اپنے گھر میں مزے سے کھائے پہلے اور قارض بھوکا مرے۔اگر نو بت بھوکا مرنے پر آئے گی تو بہر حال مقروض کو پہلے مرنا چاہئے اور قارض کو بعد میں۔پس میں ان سب عزیز وں اور دوستوں سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے میری معرفت قادیان میں اپنے کاروبار وغیرہ کے لئے رہن وغیرہ کی صورت میں روپیہ لیا تھا کہ وہ اپنے اپنے ذمہ کی رقوم کی واپسی کی طرف فوری توجہ دیں۔اور زیادہ سے زیادہ جتنی توفیق ہو اتنی رقم بلا توقف ادا کر دیں۔اور اگر یکمشت کی گنجائش نہ ہو تو قسطیں مقرر کر کے اس کے مطابق ادائیگی کرتے جائیں۔تا کہ خدا کے دربار میں ان کا نام بد معاملہ اور نادہنداور ظالم نہ لکھا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کو تو قرض کی واپسی کا اتنا خیال ہوتا تھا کہ آپ ایسے مقروض کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔جس کی جائیداد اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ خدا بسا اوقات اپنا حق معاف کر دیتا ہے مگر بندوں کا حق معاف نہیں کرتا تا وقتیکہ بندے خود معاف نہ کریں۔خلاصہ کلام یہ کہ :۔(۱) ہر وہ شخص جس نے اپنے کاروبار وغیرہ کے لئے کسی بھائی سے قادیان میں روپیہ لیا تھا اور پھر فسادات کی وجہ سے اس کا سب کچھ ضائع چلا گیا۔مگر اب اس کے حالات میں کسی قدر بہتری کی صورت پیدا ہو گئی ہے اور وہ اپنا گزارہ کرنے کے قابل ہو گیا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی آمدنی میں