مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 378

مضامین بشیر ۳۷۸ قادیان میں میرے ذریعہ روپیہ لینے والے دوست توجہ کریں تنگ دست قرض خواہوں کا حق بہر حال مقدم ہے اس سے پہلے میں کئی دفعہ ان عزیزوں اور دوستوں کو توجہ دلا چکا ہوں۔جنہوں نے اپنے کاروبار وغیرہ کے لئے میرے ذریعہ مختلف احباب سے قادیان میں روپیہ لیا تھا۔اور اس کے مقابل پر رہن وغیرہ کی صورت لکھ دی تھی۔اب جبکہ ان کے حالات خدا کے فضل سے بہتر ہورہے ہیں اور مصائب کے ابتدائی دھکہ کا اثر کافی حد تک دور ہو چکا ہے تو انہیں اپنے ذمہ کی رقوم واپس کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ ایک دو خوشکن مثالوں کو چھوڑ کر باقی کسی شخص نے اس اہم فرض کی طرف توجہ نہیں دی۔حالانکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بعض روپیہ دینے والے دوست اس وقت ایسی تنگی کی حالت میں ہیں کہ انہیں دیکھ کر رحم آتا ہے۔اور بعض کی حالت تو قریباً فاقہ کشی تک پہنچی ہوئی ہے۔اور ان کے مقابل پر کئی روپیہ لینے والوں کی حالت کافی حد تک سنبھل چکی ہے۔کیونکہ ان میں سے اکثر نے قادیان کے ضائع شدہ کارخانوں اور دوکانوں کے مقابلہ پر پاکستان میں کارخانے اور دوکانیں الاٹ کرالی ہیں اور بہر حال وہ کسی نہ کسی طرح اپنے اہل وعیال کا گزارہ چلا رہے ہیں۔پس ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے تنگ دست قارضوں کا روپیہ ادا کر یں۔میں یہ نہیں کہتا کہ بہر صورت سارا روپیہ یکمشت ادا کیا جائے۔کیونکہ کئی دوست اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اور اسلام تکلیف والا یطاق کا حکم نہیں دیتا۔مگر کوئی وجہ نہیں کہ جزوی اور بالاقساط ادا ئیگی میں کوئی روک ہو۔حق یہ ہے کہ اگر کوئی مقروض دو لقمے کھاتا ہے اور اس کا قرض خواہ ایک لقمہ سے بھی محروم ہے۔اور بھوکا مر رہا ہے تو مقروض کا فرض ہے کہ اور نہیں تو کم از کم اپنے دو لقموں میں سے ایک لقمہ کاٹ کر اپنے قرض خواہ کو دے دے اور خود ایک لقمہ پر اکتفا کرے۔بلکہ اسے چاہئیے کہ قرض خواہ کو زیادہ دے اور خود صرف قوت لایموت پر گزارہ کرے۔یہی اسلامی تعلیم ہے اور یہی انصاف ہے اور یہی اخوت اسلامی کا تقاضا ہے۔ایک بات یہ بھی یا درکھنی چاہئیے کہ جن لوگوں نے اپنی کوئی جائداد یا اپنے کارخانے وغیرہ کا کوئی حصہ کسی دوسرے کے پاس قادیان میں رہن رکھا ہوا تھا اور اب انہیں اس رہن شدہ جائداد یا اس