مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 380 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 380

مضامین بشیر سے اپنے قرض خواہوں کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ نکالے۔(۲) اگر کوئی شخص قادیان سے آتے ہوئے نقدی وغیرہ کی صورت میں کچھ مال سے بچا لایا تھا تو اس کا فرض ہے کہ اس مال میں بحصہ رسدی اپنے قرض خواہوں کا بھی حق ادا کرے۔(۳) جن لوگوں نے پاکستان میں آکر قادیان کے کارخانوں یا دوکانوں کے مقابلہ پر دوسرے کارخانے یا دوکانیں الاٹ کرائی ہیں۔وہ ان کارخانوں وغیرہ کی آمد سے اپنے قرض خواہوں کے قرضے ادا کریں خواہ یکمشت اور خواہ بالاقساط۔(۴) جن لوگوں کی کوئی اور جائداد پہلے سے پاکستان میں موجود تھی اور وہ رہن شدہ نہیں ہے وہ اس جائداد میں سے اپنے قرض خواہوں کا حصہ نکالیں۔(۵) جن لوگوں نے ایسے اصحاب سے روپیہ لیا ہوا ہے جو اب بالکل تنگ دست اور قلاش ہو چکے اور فاقہ کشی کر رہے ہیں۔مگر اس کے مقابل پر یہ لوگ خود کسی نہ کسی طرح اپنا گزارہ چلا رہے ہیں (خواہ نوکری کے ذریعہ یا کوئی کام کر کے یا قرض لے کر ) وہ اپنے ان تنگ دست قرض خواہوں کو بہر حال کچھ نہ کچھ ادا کر میں خواہ اپنے نان جو میں میں سے ہی کوئی ٹکڑا کاٹ کر دینا پڑے کیونکہ کوئی وجہ نہیں کہ مقروض تو کھائے اور قرض خواہ بھوکا مرے۔اگر اوپر کی اقسام سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس اعلان کے بعد بھی اپنے ذمہ کی رقوم کی ادائیگی شروع نہیں کرے گا تو میں یہ بات بلا لحاظ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس صورت میں میں قرض خواہوں کو یہ مشورہ دینے پر مجبور ہوں گا کہ وہ محکمہ قضا کے ذریعہ دادرسی حاصل کریں۔اور اس صورت میں یقیناً میری شہادت مقروض صاحبان کے خلاف ہوگی۔کاش لوگ سمجھیں کہ لین دین کی صفائی میں کتنی برکت ہے اور بد معالگی بالآخر کتنی لعنتوں کا موجب بن جاتی ہے۔فافهم وتد بروما علينا الا البلاغ ( مطبوعه الفضل ۷ اکتوبر ۱۹۴۸ء)