مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 290 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 290

مضامین بشیر ۲۹۰ نماز میں لازماً ایسی دعا ئیں شامل کر دی ہیں جو ہر مومن کو ہر حال میں یا درکھنی پڑتی ہیں مثلاً صراط منہ کی طرف ہدایت پانے کی طلب اور آنحضرت عے پر درود بھیجنے کی دعا وغیرہ ذالک ، یا چونکہ نماز میں قرآن کی تلاوت ضروری رکھی گئی ہے اس لئے بعض ضروری دعاؤں کو قرآن شریف میں شامل کر دیا گیا ہے تا کہ اس ذریعہ سے وہ مومن کے سامنے آتی رہیں مگر پھر بھی کئی لوگ اپنی فوری اور قریب کی ضرورتوں میں اتنے منہمک ہو جاتے ہیں کہ ان کے علاوہ انکی نظر کسی اور بات کی طرف نہیں اٹھتی۔پس میں نے ضروری خیال کیا کہ اپنے دوستوں کو بعض ان دعاؤں کی طرف توجہ دلا دوں جو انہیں لازماً مانگنی چاہئیں اور جن کے بغیر جماعت کی ترقی محال ہے۔ا۔سو جاننا چاہیئے کہ سب سے پہلی دعا سورۃ فاتحہ کی جامع دعا ہے جسے ام القرآن کا لقب عطا کیا گیا ہے اس کے یہ الفاظ کہ:۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۷۲ ง یعنی اے خدا ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے ہاں وہی مبارک رستہ جس پر چل کر تیرے خاص بندے دین و دنیا کے انعام حاصل کرتے رہے ہیں اور خدا یا ہم پر یہ بھی فضل فرما کہ ہم تیری ناراضگی کے موقعوں سے بچیں اور ایک دفعہ سیدھا رستہ پا کر پھر کبھی گمراہ نہ ہوں ، یہ ایک نہایت ہی جامع دعا ہے جو دراصل ہر دینی اور دنیوی ضروریات کے موقعہ پر مانگی جاسکتی ہے اور اسی لئے اس دعا کو نماز کی ہر رکعت میں ضروری قرار دیا گیا ہے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم فرما یا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ فاتحہ کو ہر دوسری دعا کی تمہید کے طور پر بھی لازماً پڑھا کرتے تھے یعنی خواہ دعا کوئی کرنی ہو اس سے پہلے سورۃ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے۔اور آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث تو سب جانتے ہیں کہ لا صلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَاب یعنی سورہ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز ، نماز کہلانے کی حقدار نہیں۔(۲) سورۃ فاتحہ سے اتر کر دوسری ضروری دعا درود ہے، یعنی ، اللهم صل على محمد وعلى ال محمد ، والی مسنون دعا۔اس دعا کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہے کہ خدا نے جس طرح ہر نماز کے شروع میں سورۃ فاتحہ کو رکھا ہے اسی طرح ہر نماز کے آخر میں درود کو لازمی قرار دیا ہے۔گویا ہر دوکو نے کے پتھر ہیں جن سے نماز کی عمارت کو مکمل کیا گیا ہے مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ درود کی دعا آنحضرت ﷺ کے لئے کوئی ذاتی دعا نہیں ہے (اور اگر ذاتی بھی ہو تو یہ دعا آپ کی شان کے بالکل شایان ہے ) بلکہ ایک عظیم الشان