مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 291 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 291

۲۹۱ مضامین بشیر قومی اور دینی دعا ہے جس میں اسلام کی غیر معمولی ترقی کا راز مضمر ہے۔اسی لئے جب ایک صحابی نے آنحضرت علیہ سے یہ پوچھا کہ یا رسول اللہ میں درود کو اپنی دعاؤں میں کتنا حصہ دیا کروں ؟ کیا میں اسے ایک چہارم حصہ دیدوں ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں اور اگر ممکن ہو تو اس سے زیادہ دو۔اس نے کہا یا رسول اللہ کیا میں اسے نصف حصہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور اگر ممکن ہو تو اس سے زیادہ۔اس نے کہا تو پھر یا رسول اللہ میں آئندہ اپنی دعا ئیں آپ پر درود بھیجنے کیلئے ہی وقف کر دوں گا۔آپ نے فرمایا ہاں یہ اچھا ہے بشرطیکہ تم ایسا کر سکو۔اس ارشاد سے آپ کا منشاء یہ تھا کہ اگر انسان اپنی ساری دعائیں درود یعنی آنحضرت ﷺ کے مدارج کی بلندی اور اسلام کی ترقی کے لئے ہی وقف کر سکے تو یہ سب سے بہتر ہے، کیونکہ پھر ایسے شخص کے کاموں میں خدا خود کفیل ہو جاتا ہے گویا درود ایک دہری قسم کی دعا ہے۔بلا واسطہ وہ دعا ہے اسلام کی ترقی کی اور بالواسطہ وہ دعا ہے خود دعا کرنے والے کے حق میں مگر اس کے ساتھ آنحضرت علہ نے ان الفاظ میں یہ اشارہ بھی فرمایا ہے کہ انسان اپنی فطرت کے ماتحت مجبور ہے کہ کچھ دعائیں براہ راست اپنی ضرورتوں کے لئے بھی کرے یا کم از کم یہ کہ اکثر لوگ براہ راست ذاتی دعا کے بغیر تسلی نہیں پاسکتے اور یقیناً اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔اسی طرح تذکرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریک فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات درود پڑھنے کا التزام کیا اور بے شمار دفعہ درود پڑھا گیا جس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا کے فرشتے بڑی مشکیں اٹھا کر میرے مکان میں لائے ہیں جو نور سے بھری ہوئی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد ﷺ کی طرف بھیجے تھے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جو شخص درود پڑھتا ہے خداس کے اس فعل پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ درود کے اصل مقصد کے علاوہ اسے ذاتی طور پر بھی اپنے انعاموں سے مالا مال کر دیتا ہے۔اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ درود صرف آنحضرت علیہ ہی کے لئے دعا نہیں بلکہ خود دعا کرنے والے کے لئے بھی دعا ہے۔بڑی ۷۴ (۳) تیسری دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجنا ہے جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہیں کہ احمدیت کی ترقی کے لئے دعا مانگی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک فتویٰ کے مطابق اگر کوئی شخص پسند کرے تو آنحضرت ﷺ کے درود میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درود کو شامل کر سکتا ہے اور اس کے لئے یہ الفاظ مناسب ہیں کہ : اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَلَيْكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَبَارِک وَسَلِّمْ لیکن اگر الگ الگ درود بھیجا جائے تو وہ بھی بالکل درست اور مناسب ہے مگر بہر حال حضرت مسیح موعود