مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 289 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 289

گو اس کی قبولیت کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔۲۸۹ مضامین بشیر تیسری اصولی تعلیم دعا کے متعلق اسلام یہ دیتا ہے کہ ایک تو اس میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور دوسرے کوئی دعا شک اور بدظنی کے الفاظ میں نہ کی جائے بلکہ یقین اور امید سے پُر دل کے ساتھ کی جائے۔چنانچہ آنحضرت یہ فرماتے ہیں: ان يستجاب لاحد كم مالم يعجل فيقول قد دعوت ربى فلم يستجب لى۔اذادعــا أَحَدُكُـم فـلـيـعـزم المسالَةَ ولا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِن شئت فاعِطِنِي فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكِرَهَ لَهُ یعنی خدا تعالیٰ اپنے بندے کی دعا کو ضرور سنتا ہے بشرطیکہ وہ جلد بازی سے کام لے کر یہ نہ کہنے لگ جائے کہ میں نے اتنا عرصہ دعا کر کے دیکھ لیا مگر خدا نے میری دعا نہ سنی اور جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ اپنے سوال پر پختگی اور یقین کے ساتھ قائم ہو اور دعا میں اس قسم کے الفاظ نہ کہے کہ خدایا اگر تو پسند کرے تو میری اس دعا کو قبول کر کیونکہ خدا کسی کے ماتحت نہیں وہ بہر حال دعا کو اسی صورت میں قبول کرے گا جسے وہ پسند کرتا ہے کیونکہ اسے کوئی شخص کسی خاص طریق کے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر تم خواہ نخواہ مشروط اور ڈھیلے ڈھالے الفاظ بول کر اپنی دعا کے زور اور اپنے دل کی توجہ کو کمزور کیوں کرتے ہو؟ اس مختصر سی تمہید کے بعد جو دعا کا اسلامی فلسفہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری روزمرہ کی دعا ئیں کن مضامین پر مشتمل ہونی چاہئیں اور چاہتا ہے کہ انسان کو دنیا میں ہر طرح کی ضرورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔یعنی دینی بھی یاد نیا وی بھی ، ذاتی بھی اور خاندانی بھی ہلکی بھی، غیر ملکی بھی ، اور پھر حال سے تعلق رکھنے والی بھی اور مستقبل سے تعلق رکھنے والی بھی۔اس نے انسان کی دعاؤں کو کسی ایک خاص میدان کے ساتھ وابستہ نہیں کیا بلکہ اسے اجازت دی ہے کہ وہ اپنی ہر قسم کی ضرورت کے لئے خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے لیکن اکثر لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ جو فوری اور وقتی ضرورت ان کے سامنے ہو وہ اسکے سوا باقی تمام باتوں کو بھول جاتے ہیں مثلاً اگر کسی شخص پر کوئی سنگین مقدمہ دائر ہے تو بسا اوقات وہ اپنے اضطراب میں اپنی ساری دعائیں اس مقدمہ کی کامیابی کے لئے وقف کر دیتا ہے اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس پر اس کے علاوہ بھی بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، بے شک فوری اور وقتی ضرورت بعض اوقات مقدم ہو جاتی ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی حالت میں دوسری دعاؤں کو بالکل ہی بھلا دیا جائے۔اس لئے ہمارے علیم و حکیم خدا نے جو انسان کی کمزوریوں کو جانتا ہے