مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 10

مضامین بشیر اوّل تبلیغ ، دوم تعلیم و تربیت ، سوم تنظیم اور چہارم۔کام کے واسطے روپے کی فراہمی اور ظاہر ہے کہ جہاں یہ چار چیزیں بصورت احسن میسر آجائیں ، وہاں کوئی دنیوی طاقت کسی جماعت کی ترقی کے رستہ میں روک نہیں بن سکتی۔اور فَأَصْبَحُوا ظهِرِينَ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے۔مسیح محمدی کے کام کی یہی صورت اللہ تعالیٰ نے ایک خوبصورت تمثیل کے ذریعہ سورہ کہف میں بھی بیان فرمائی ہے۔جہاں ذوالقرنین کا ذکر کر کے اور اس کے حالات کو روحانی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر چسپاں کر کے فرماتا ہے: اتُونِي زُبَرَ الْحَدِيْدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ أَتُوْنِي أَفْرِغْ عَلَيْهِ قِطَرًا یعنی مسیح موعود اپنے صحابہ سے کہے گا کہ میرے پاس تبلیغ کے ذریعہ لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لاؤ۔کیونکہ میری طرف آنے سے وہ گویا آہنی اینٹیں بن جائیں گے۔جن کے ذریعہ میں کفر و ایمان کے درمیان ایک بلند دیوار چن دوں گا۔اور پھر جب وہ مسیح محمدی کے انفاس قدسیہ کی گرمی سے مناسب درجہ حرارت کو پہونچ جائیں گے۔تو مسیح ان سے فرمائے گا کہ اب اس آہنی دیوار کو مضبوط کرنے کے لئے پچھلے ہوئے تانبے (یعنی روپے پیسے ) کی بھی ضرورت ہے۔وہ لاؤ تا میں اس کے ذریعہ اس دیوار کے رخنوں کو بند کر کے اسے ایک غالب رہنے والی چیز بنادوں۔“ اس لطیف تمثیل میں اللہ تعالیٰ نے وہ تمام چیزیں یکجا بیان فرما دی ہیں جو دوسری آیات سے استدلال کر کے اوپر درج کی گئی ہیں۔یعنی اتُونِی زُبَرَ الْحَدِيدِ میں تبلیغ کی طرف ارشاد ہے اور سَاوِي بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ اور جَعَلَهُ نَارًا میں تعلیم و تربیت کی طرف اشارہ ہے۔اور اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا میں مالی قربانیوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ سارے کام مسیح موعود اور آپ کی جماعت کے ذریعہ انجام پانے مقدر ہیں۔اب دوست خود غور فرما ئیں کہ انصار اللہ کے سر پر کتنی بھاری ذمہ داری کا بوجھ ہے اور جب تک وہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں دن رات مستغرق نہ رہیں۔اور اسے اپنی زندگیوں کا مقصد نہ قرار دے لیں۔اس وقت تک وہ اس خدائی وعدہ کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔۔۔۔کے شاندار الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اور جو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پورا ہو کر رہے گا۔گو یہ علم صرف خدا کو حاصل ہے کہ ہم میں سے کون زبر الحدید کا رنگ اختیار کر چکا ہے اور کون نہیں اور کس پر خدائی دیوار میں چنے جانے کے لئے فرشتوں کا ہاتھ پڑ چکا ہے اور کس پر نہیں