مضامین بشیر (جلد 2) — Page 11
مضامین بشیر اور کس کے رخنے پگھلے ہوئے تانبے کے ذریعہ بھرے جاچکے ہیں اور کس کے نہیں۔کام خدا کا ہے اور ہم نے صرف اپنے آپ کو خدا کے سانچے میں ڈھال کر اس کے سپر د کر دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ؎ بمفت ایں اجر نصرت را، دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان ست ایں، بہر حالت شود پیدا پس میں دوستوں سے اپیل کروں گا کہ انصار اللہ کے مقدس کام کو ان چار ستونوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں جو میں نے قرآن شریف سے استدلال کر کے اوپر بیان کئے ہیں۔یعنی (۱) تبلیغ (۲) تعلیم و تربیت (۳) تنظیم اور (۴) مالی قربانی۔اگر وہ ان چار پہلوؤں سے اپنے نظام کو پختہ کر لیں تو ان کے قلعہ کی چار دیواری مکمل ہو جائے گی اور پھر انہیں خدا کے فضل سے کسی مخالف طاقت کا خطرہ نہیں رہے گا۔بلکہ ہر مخالف طاقت ان کے سامنے مغلوب ہو کر ان کی غلامی کو اپنے لئے باعث فخر خیال کرے گی۔اے خدا تو اپنی ذرہ نوازی سے ایسا فضل فرما کہ قبل اس کے کہ ہم اس دنیا کی زندگی کو پورا کر کے تیرے دربار میں حاضر ہوں۔ہمیں تیرے حضور میں وہ مقام حاصل ہو چکا ہو جو تو نے صحابہ کرام کی مقدس جماعت کے متعلق ان پیارے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: - رضي الله عنهم ورضواعنه۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔آمین واخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العلمين ( مطبوعه الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۴۶ء )