مضامین بشیر (جلد 2) — Page 9
66 مضامین بشیر کی زبان سے ان کے مثیل احمد نامی رسول کی پیشگوئی کروائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس مثیل مسیح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں اسلام کو تمام ادیانِ عالم پر غالب کر کے دکھائے گا۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ فَأَمَنَتْ ظَابِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيْلَ وَ كَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوْا عَلَى عَدُوهُمْ فَأَصْبَحُوا ظُهِرِينَ 16 یعنی ”اے وہ مسلما نو جو محمدی مسیح کا زمانہ پانے والے ہو۔تم دین حق کی خدمت میں انصار اللہ بن جاؤ جس طرح کہ موسوی صحیح نے اپنے حواریوں سے کہا تھا کہ میرے خدائی مشن میں کون میرا انصار بنتا ہے۔اور اس پر حواریوں نے جواب دیا تھا کہ ہم انصار اللہ بنتے ہیں۔اور مسیح ناصری کی اس ندا کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کا ایک فرقہ ایمان لے آیا اور ایک فرقہ کا فر ہو گیا۔جس پر ہم نے کافروں کے خلاف مومنوں کی مددفرمائی اور وہ اس مقابلہ میں کھلے طور پر غالب آگئے۔“ ان دو حوالوں میں دونوں مسیحوں کے حواریوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔اور ان دو موقعوں کے سوا قرآن شریف نے انصار اللہ کی اصطلاح اس مرکب صورت میں کسی اور جگہ استعمال نہیں کی۔جس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس اصطلاح کو اپنے دو عظیم الشان جمالی نبیوں یعنی مسیح موسوی اور مسیح محمدی کے صحابہ کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔مگر جیسا کہ آیات کے الفاظ سے ظاہر ہے ، خدا تعالیٰ نے مسیح محمدی کے لئے یہ امتیاز مقرر کیا ہے کہ جہاں صحیح ناصری کے معاملہ میں انصار اللہ بننے کی تحریک مسیح کی زبان سے پیش کی گئی ہے۔وہاں مسیح محمدی کے معاملہ میں یہ تحریک خود ذات باری تعالیٰ کی طرف سے ہے۔جس میں یہ اشارہ مقصود ہے کہ یہ تحریک خدا کی خاص نصرت اور برکت سے حصہ پائے گی۔بہر حال قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ انصار اللہ کی اصطلاح خدا تعالیٰ کی نظر میں انبیاء کے جمالی ظہور کے ساتھ مخصوص تعلق رکھتی ہے اور چونکہ جمال کے ساتھ دین حق کی ایسی تشریح و تبلیغ وابستہ ہے جو ایک پیہم اور مسلسل کوشش کی صورت میں دلائل و براہین کے ذریعہ کی جائے۔اس لئے انصار اللہ کا اصل کام جمالی رنگ میں تبلیغ اور تربیت کے دولفظوں میں محصور ہو جاتا ہے۔اور چونکہ تبلیغ وتربیت کا کام ایک طرف تنظیم کو چاہتا ہے۔اور دوسری طرف مالی قربانی کو۔اس لئے ہمارے کام کے یہ چارستون قرار پاتے ہیں :