مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1041 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1041

۱۰۴۱ مضامین بشیر جو اصدق الناس ہیں اپنے والد عبداللہ کا نام درمیان میں سے چھوڑ کر اپنے آپ کو صرف ابن عبدالمطلب کہا تو یہ خاکسار ہلاکو خان کے باپ اور بیٹے کا نام ترک کرنے پر مورد اعتراض کس طرح بن سکتا ہے؟ حق یہ ہے کہ چونکہ عرفاً اور استعمالاً بیٹے کے مفہوم میں پوتا اور پڑپوتا سبھی شامل ہوتے ہیں۔اس لئے میں نے ہلاکو خان کو چنگیز خان کا لڑکا اور مسلمان ہونے والے رئیس کو (جس کا اسلامی نام غالباً احمد رکھا گیا تھا ) ہلاکو خان کا بیٹا دانستہ لکھا تھا اور میری غرض یہ تھی کہ تا اس حقیقت کو نمایاں کیا جائے کہ یہ دونوں منگولی رئیس اپنے نام بردہ جد کی قریب ترین نسل سے تعلق رکھنے والے اور ان کی سیاست کے براہ راست وارث تھے۔بہر حال جو بات حضرت عیسے نے کہی اسی قسم کی بات کہنے کی وجہ سے میرے مضمون پر اعتراض نہیں ہو سکتا اور جو بات خود ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اسی قسم کا کلمہ زبان پر لانے کی بنا پر میرے مضمون کے خلاف حرف گیری زیب نہیں دیتی۔بالآخر میں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے پھر عرض کروں گا کہ ان کی نظر نفس مضمون کی طرف اٹھنی چاہئیے نہ کہ ان ضمنی باتوں کی طرف۔بے شک اگر واقعی کوئی غلطی ہو جائے خواہ مجھ سے یا کسی اور سے تو اس کی طرف توجہ دلانا برا نہیں بلکہ اصلاح اور شکر گزاری کا موجب ہے اور میں اسے ہرگز برا نہیں مانتا لیکن زیادہ خوشی کا موجب یہ بات ہوتی کہ ہمارے دوست نفس مضمون کی طرف توجہ دیتے۔خود غور کرو اور سوچو کہ اگر کوئی نوجوان اٹھ کر یہ کہتا کہ میں آئندہ اپنے آپ کو سپین کے انتقام کے لئے تیار کروں گا تو ہم سب کو کتنی خوشی ہوتی مگر اصل مضمون کو نظر انداز کر کے ہلاکو خاں اور چنگیز خان کے رشتہ ناطہ کی بحث میں الجھنا کسی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا۔بات وہی ہے اور مجھے یہ بات پھر کہہ لینے دو کہ اے احمدی نو جوانو ! سپین کی زمین ابھی تک اسلام کے روحانی انتقام کی پیاسی ہے۔اٹھو اور اس پیاس کو بجھانے کا انتظام کرو۔چنگیز خان اور ہلاکو خان خواہ مریں یا جئیں ہمیں اس سے کام نہیں اسلام زندہ ہونا چاہیے اور پین کی پیاس۔ہاں ہاں سینکڑوں سال کی تپش والی پیاس اسلام کے انتقام سے بجھنی چاہئیے۔پھر خواہ ہلاکو خان چنگیز خان کا بیٹا ہو یا کہ پوتا ہمیں اس بحث سے سروکارنہیں لیکن ہر احمدی نوجوان خواہ وہ بظاہر دین کے کام میں ہو یا دنیا کے کام میں اسلام کا فرزند بنا چاہئے۔مسیح موعود کا فرزند - محمد رسول اللہ کا فرزند۔وقت بہت نازک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر بند زاں پیشتر کہ بانگ بر آید فلاں نماند ( مطبوعه الفضل ۲۶ / نومبر ۱۹۵۰ء)