مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1040 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1040

مضامین بشیر ۱۰۴۰ بیان کیا تھا کہ اگر ایک بھائی نے اسلام کے قلعہ کو مسمار کرنا چاہا تو دوسرے بھائی کو خدا نے اس قلعہ کی مرمت اور مضبوطی کے لئے کھڑا کر دیا اور ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے اہل فارس بھی گویا منگولیوں کے ہی قائم مقام ہیں کیونکہ اول تو ان دونو کا وطن پہلو بہ پہلو تھا اور گویا دونو ہمسائے تھے اور دوسرے بغداد پر منگولیوں کا حملہ فارس کے رستہ ہی ہوا تھا۔پس بالفرض اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغل نہ بھی ہوں بلکہ صرف اہل فارس میں سے ہوں تو پھر بھی یہ حقیقت بہر حال قائم رہتی ہے کہ جس ملک سے فتنہ اٹھا تھا اسی ملک کو خدا نے اپنے انتقام کی تکمیل کے لئے فتنہ کے استیصال کا ذریعہ بنایا۔پس عملاً بات وہی رہی۔فافهم و تدبر۔دوسرا سوال تعلیم الاسلام کالج کے ایک غیر معلوم الاسم دوست کا ہے جو مولوی ارجمند خاں صاحب کے ذریعہ مجھے پہنچا ہے۔مولوی صاحب موصوف نے مجھے بتایا ہے کہ کالج میں کوئی صاحب کہتے تھے کہ میرے مضمون میں ہلاکو خان کو چنگیز خان کا لڑکا اور مسلمان ہونے والے منگولی رئیس کو ہلا کو خان کا لڑکا لکھا گیا ہے جو درست نہیں کیونکہ ہلاکو خان چنگیز خان کا پوتا تھا نہ کہ لڑکا اور مسلمان ہونے والا رئیس بھی ہلاکو خاں کا لڑکا نہیں تھا بلکہ پوتا تھا۔اس دوست کے جواب میں عرض ہے کہ تاریخ سے مجھے بھی کچھ شد بد ہے اور جو بات سوال کرنے والے دوست نے کہی ہے میں اس سے بے خبر نہیں تھا لیکن میں نے دانستہ اپنے اس نکتہ پر زور دینے کی غرض سے کہ یہ تغیرات کتنی سرعت کے ساتھ نمودار ا ہوئے ان لوگوں کو اپنے مضمون میں بیٹے کے طور پر ظاہر کیا تھا کیونکہ عرف اور زبان کے مسلمہ اصول کے لحاظ سے پوتا بھی دراصل بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے اور دنیا کی ہر زبان میں پوتے کو بیٹے کے طور پر بیان کرنا جائز سمجھا گیا ہے بلکہ بعض اوقات تو پوتے کے بیٹوں اور پھر آگے ان کے بیٹوں کو بھی عرفاً بیٹے کہہ دیا جاتا ہے اور اس پر نہ تو زبان کے لحاظ سے کوئی اعتراض ہو سکتا ہے اور نہ اخلاق کے لحاظ سے کوئی بات قابل اعتراض سمجھی جاتی ہے۔مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام نے جو خدا کے ایک برگزیدہ رسول تھے ، انجیل میں اپنے آپ کو کئی جگہ ابن داؤد کہا ہے حالانکہ وہ حضرت داؤد سے سینکڑوں سال بعد پیدا ہوئے تھے اور ابنِ آدم کا محاورہ تو بچے بچے کی زبان پر ہے۔اسی طرح بخاری میں آتا ہے کہ جب حنین کے میدان میں اکثر مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو ہمارے آقا سید الاولین والآخرین اور اصدق الصادقین صلے اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھے کہ : انا النبى لا كذب انا ابن عبدالمطلب ۱۵۸ 66 د یعنی میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ اب ہر مسلمان جانتا ہے کہ آپ معبد المطلب کے بیٹے نہیں تھے بلکہ پوتے تھے۔پس اگر آپ نے